سیرت النبی ؐ — Page 157
تھا اسے اس نے حکم دیا کہ تو میرے لئے کھانا تیار کر کہ میں رسول اللہ صلی ہی تم کو چار اور آدمیوں سمیت کھانے کے لئے بلاؤں گا۔پھر اس نے رسول کریم صلی یا یہ تم سے بھی کہلا بھیجا کہ حضور کی اور چار اور آدمیوں کی دعوت ہے۔جب آپ اس کے ہاں چلے تو ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا جب آپ اس کے گھر پہ پہنچے تو اس سے کہا کہ تم نے ہمیں پانچ آدمیوں کو بلوایا تھا اور یہ شخص بھی ہمارے ساتھ آگیا ہے اب بتاؤ کہ اسے بھی اندر آنے کی اجازت ہے یا نہیں۔اس نے کہا یا رسول اللہ اجازت ہے تو آپ اس کے سمیت اندر چلے گئے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح بے تکلفی سے معاملات کو پیش کر دیتے۔شاید آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو چپ ہی رہتا مگر آپ دنیا کے لئے نمونہ تھے اس لئے ہر بات میں جب تک خود عمل کر کے نہ دکھاتے ہمارے لئے مشکل ہوتی۔آپ نے اپنے عمل سے بتادیا کہ سادگی ہی انسان کے لئے مبارک ہے اور ظاہر کر دیا کہ آپ کی عزت تکلف یا بناوٹ سے نہیں تھی اور نہ آپ ظاہری خاموشی یا وقار سے بڑا بننا چاہتے تھے بلکہ آپ کی عزت خدا کی طرف سے تھی۔گھر کا کام کاج خود کر لیتے :- میں نے پچھلی فصل میں بتایا ہے کہ آپ کس طرح سادگی سے کام لیتے اور تکلفات سے پر ہیز کرتے تھے اور بناوٹ سے کام نہ لیتے تھے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آنحضرت نہ صرف بے تکلفی سے سب کام کر لیتے اور اس معاملہ میں سادگی کو پسند فرماتے بلکہ آپ کی زندگی بھی نہایت سادہ تھی اور وہ اسراف اور غلو جوامر ء اپنے گھر کے اخراجات میں کرتے ہیں آپ کے ہاں نام کو نہ تھا بلکہ ایسی سادگی سے اپنی زندگی بسر کرتے کہ دنیا کے بادشاہ اسے دیکھ کر ہی حیران ہو جائیں اور اس پر عمل کرنا تو الگ رہا یورپ کے بادشاہ شاید 157