سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 156

صلی لا الہ تم جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح تکلف سے بچتے تھے۔اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے بھی ناواقف ہیں۔اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچادیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق شرائط کو پورانہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے مگر آنحضرت جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں آپکا یہ طریق نہ تھا بلکہ آپ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلفات کے پابند تھے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔پس جب جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں۔اور آپ نے ایسا کر کے امت محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لئے تکلفات اور بناوٹ سے بچالیا۔اس اسوہ حسنہ سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے جو آج کل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلفات کے شیدا ہیں۔جس فعل سے عظمت الہبی اور تقویٰ میں فرق نہ آئے اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق نہیں آسکتا۔حضرت ابن مسعود انصاری سے روایت ہے قَالَ كَانَ رُجُلْ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامُ لَحَامْ فَقَالَ اِصْنَعْ لِى طَعَامٌ اَدْ عَوْرَ سَوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةِ فَدَعَارَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةِ فَتَبِعَهُمْ رَجُلْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةِ وَهَذَا رَجُلْ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ قَالَ بَلْ اذِنْتُ لَهُ ( بخاری کتاب الاطعمة باب الرجل يتكلف الطعام لاخوانه ) آپ نے فرمایا کہ ایک شخص انصار میں تھا۔اس کا نام ابوشعیب تھا اور اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا 156