سیرت النبی ؐ — Page 146
جب یہ لوگ صحابہؓ کو لے کر چلے تو راستہ میں ان سے شرارت کی اور عہد شکنی کر کے ہذیل قبیلہ کے لوگوں کو اکسایا کہ انہیں پکڑ لیں۔انہوں نے ایک سو آدمی ان چھ آدمیوں کے مقابلہ میں بھیجا۔صحابہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے۔کفار نے ان سے کہا کہ وہ اتر آئیں وہ انہیں کچھ نہ کہیں گے۔حضرت عامررضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ انہیں کافروں کے عہد پر اعتبار نہیں وہ نہیں اتریں گے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہماری حالت کی رسول اللہ کو خبر دے۔مگر چھ میں سے تین آدمی کفار پر اعتبار کر کے اتر آئے۔مگر جب انہوں نے ان کے ہاتھ باندھنے چاہے تو ایک صحابی نے انکار کر دیا کہ یہ تو خلاف معاہدہ ہے مگر وہاں معاہدہ کون سنتا تھا اس صحابی کو قتل کر دیا گیا باقی دو میں سے ایک کو صفوان بن امیہ نے جو مکہ کا ایک رئیس تھا خرید لیا اور اپنا غلام کر کے نسطاس کے ساتھ بھیجا کہ حرم سے باہر اس کے دو بیٹوں کے بدلہ قتل کر دے۔نسطاس نے قتل کرنے سے پہلے ابن الدشنہ رضی اللہ عنہ (اس صحابی) سے پوچھا کہ تجھے خدا کی قسم سچ بتا کہ کیا تیرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا رسول اس وقت یہاں ہمارے ہاتھ میں ہو اور ہم اسے قتل کریں اور تو آرام سے اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہو۔ابن الدشنہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ محمد لیم وہاں ہوں جہاں اب ہیں ( یعنی مدینہ میں ) اور ان کے پاؤں میں کوئی کانٹا چھے اور میں گھر میں بیٹھا ہوا ہوں۔اس بات کو سنکر ابوسفیان جو اس وقت تک اسلام نہ لا یا تھا وہ بھی متاثر ہو گیا اور کہا کہ میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنی محمد ( ایس ایم) کے صحابی محمد ( سال یا یہ تم سے محبت کرتے تھے۔یہ وہ اخلاص تھا جو صحابہ کو آنحضرت صاللہ السلام سے تھا اور یہی وہ اخلاص تھا جس نے انہیں ایمان کے ہر ایک شعبہ میں پاس کرا دیا تھا اور انہوں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ (146