سیرت النبی ؐ — Page 137
کے خیال میں رہتے تھے اور آپ کا ہر ایک فعل عظمت الہی کو قائم کرنے والا تھا آپ کو ضرور بالضرور سب سے پہلے تعمیر مسجد کا خیال پیدا ہونا چاہیئے تھا۔چنانچہ جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے آپ نے جو کام کیا وہ یہی تھا کہ آپ اپنے محبوب و مطلوب کے ذکر کا مقام اور اس کے حضور گرنے اور عبادت کرنے کی جگہ تیار کریں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ہمارے مطاع و آقا خاتم النبین سایتم کی زوجہ مطہرہ تھیں آپ نے ایک طویل حدیث میں تمام واقعہ ہجرت مفصل بیان فرمایا ہے۔آپؐ فرماتی ہیں فَلَبِثَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشَرَةَ لَيْلَةً وَاتِسَ المَسْجِدُ الَّذِي أُتِسَ عَلَى التَّقْوَى وَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِيْ مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرِكَتْ عِنْدَمَسْجِدِ الرَسُوْلِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلَّىٰ فِيْهِ يَوْ مَئَذٍ رِجَالُ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَكَانَ مِرْبَدُ التَّمْرِ لِسَهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلَا مَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرٍ سَعَدِ بْنِ زُرَارَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ بَرِكَتْ بِهِ رَاحِلَتَهُ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَا مَيْن فَسَاوَ مَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَا بَلْ نَهَبْهُ لَكَ يَارَسُوْلَ اللهِ فَأَبِى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُمَا هِبَةً حَتَّى إِبْتَاعَهُ مِنْهُمَا ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا ( بخاری کتاب المناقب باب هجرة النبي واصحابه الى المدينة) نبی کریم صل السلام بنی عمرو بن عوف میں کچھ دن ٹھہرے۔دس دن سے کچھ اوپر اور اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کی نسبت قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول کریم ای ایم نے نماز پڑھی پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور آپ کے ساتھ لوگ پا پیادہ چلنے لگے۔آپ کی اونٹنی چلتی گئی یہاں تک کہ وہ مدینہ کے اس مقام پر پہنچ کر بیٹھ گئی جہاں (137)