سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 123

واقعات پر کفایت کرتا ہوں۔دراصل اگر غور کیا جائے تو آنحضرت صلالہ اسلام کی ملکہ کی زندگی ہی بہادری کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ ہے کہ اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔تیرہ سال تک ایک ایسے مقام پر رہنا کہ جہاں سوائے چند انفاس کے اور سب لوگ دشمن اور خون کے پیاسے ہیں اور بغیر خوف کے لوگوں کو اپنے دین کی باتیں سنانا اور پھر ایسے دین کی جولوگوں کی نظر میں نہایت حقیر اور مکر وہ تھا۔کوئی ایسا کام نہیں جس کے معلوم ہونے پر آپ کے کمالات کا نقشہ آنکھوں تلے نہ کھینچ جاتا ہو۔اس تیرہ سال کے عرصہ میں کیسے کیسے دشمنوں کا آپ کو مقابلہ کرنا پڑا۔انواع و اقسام کے عذابوں سے انہوں نے آپ کے قدم صدق کو ڈگمگا نا چاہا لیکن آپ نے وہ بہادری کا نمونہ دکھایا کہ ہزار ہادشمنوں کے مقابلہ میں تن تنہا سینہ سپر رہے اور اپنے دشمنوں کے سامنے اپنی آنکھ نیچی نہ کی اور جو پیغام خدا کی طرف سے لے کر آئے تھے اسے کھلے الفاظ میں بغیر کسی اختفاء و اسرار کے لوگوں تک پہنچاتے رہے غرض کہ آپ کی زندگی تمام کی تمام جرات و دلیری کا ایک بے مثل نمونہ ہے مگر جگہ کی قلت کی وجہ سے میں ایک دو واقعات سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ كَانَ فَزَعْ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسَالَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبْ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ( بخاری کتاب الجهاد باب اسم الفرس والمحار) مدینہ میں کچھ گھبراہٹ تھی پس نبی کریم ملایا کہ تم نے ہمارا گھوڑا مستعار لیا جس کا نام مندوب تھا اور فرمایا کہ ہم نے کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں دیکھی اور ہم نے تو اس گھوڑے کو سمندر پایا یعنی نہایت تیز وتند۔حضرت انس نے ایک حدیث میں اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ مدینہ میں کسی غنیم کے حملہ آور ہونے کی خبر تھی اور مسلمانوں کو ہر وقت اس کے حملہ آور ہونے کا انتظار تھا۔ایک رات اچانک شور ہؤا 123