سیرت النبی ؐ — Page 113
تکلیف دیتے ہیں اور اسے فخر سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ایک ذریعہ جانتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنا کوئی آسان امر نہیں پہلے انسان پوری طرح سے اپنے نفس کو مارے اور اپنے ہر فعل اور قول کو اس کی رضا کے مطابق بنائے اپنی خواہشات کو اس کے لئے قربان کر دے۔اپنی آرزوؤں کو اس کے منشا کے مقابلہ میں مٹا دے۔اپنے ارادوں کو چھوڑ دے۔اس کی خاطر ہر ایک دکھ اور تکلیف اٹھانے کو تیار ہو جائے۔اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی خاک عظمت نہ سمجھے اور جس چیز کے قرب سے اس سے دوری ہوا سے ترک کر دے۔اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچائے تب ہی انسان خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر سکتا ہے اور جب اس کا فضل نازل ہو تو اس کی رحمت کے دروازے خود بخو دکھل جاتے ہیں اور وہ ان اسرار کا مشاہدہ کرتا ہے جو اس سے پہلے اس کے واہمہ میں بھی نہیں آتے تھے اور یہ حالت انسان کے لئے ایک جنت ہوتی ہے جسے اسی دنیا میں حاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انعامات کا ایسے ایسے رنگ میں مطالعہ کرتا ہے کہ عقل حیران ہو جاتی ہے اور جنت کی تعریف ان کشوف پر صادق آتی ہے کہ مَا لَا عَيْنَ رَأَتْ وَلَا أُذُنْ سَمِعَت لیکن باوجود اس بات کے پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ مشقت اٹھانے سے حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ بہت سے انسان اپنی عمر کو رائیگاں کر دیتے ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچتے۔اہل ہنود میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اپنے ہاتھ سکھا دیتے ہیں۔ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو سردیوں میں پانی میں کھڑے رہتے ہیں اور گرمیوں میں اپنے اردگرد آگ جلا کر اس کے اندر اپنا وقت گزارتے ہیں۔ایسے بھی ہیں کہ جو سارا دن سورج کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھتے رہتے ہیں اور جدھر سورج پھرتا جائے ان کی نظر اس کے ساتھ پھرتی جاتی ہے۔پھر ایسے بھی ہیں جو نجاست اور گندگی کھاتے ہیں مردوں کا گوشت کھاتے (113)