سیرت النبی ؐ — Page 112
جن ذریعوں سے قلب انسانی بیرونی اشیاء سے متاثر ہوتا ہے ان میں بھی نور ہی بھر دے یعنی آنکھوں اور کانوں کو نورانی کر دے۔میری آنکھیں کوئی ایسی بات نہ دیکھیں کہ جس کا دل پر خراب اثر پڑے۔نہ کان وہ باتیں سنے جن سے دل بدی کی طرف مائل ہو۔پھر اس سے بڑھ کر آپ نے یہ سوچا کہ کان اور آنکھیں بھی تو آخر وہی سنتے اور دیکھتے ہیں جو ان کے اردگرد ہوتا ہے۔اگر اردگرد ظلمت کے سامان ہی نہ ہوں اور بدی کی تحریک اور میلان پیدا کرنے والے ذرائع ہی مفقود ہوں تو پھر انہوں نے دل پر کیا خراب اثر ڈالنا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَنْ يَمِينِى نُورًا وَيَسَا رِىٰ نُورًا وَفَوْقِيَ نُورًا وَتَحْتِيَ نُورًا وَأَمَا مِن نُورًا وَخَلْفِى نُورًا ( بخاری کتاب الدعوات باب الدعاا ذانتبه من الليل) اے اللہ میری بینائی اور شنوائی کو نور سے منور کر کے یہ بھی کر کہ میرے دائیں بائیں، آگے پیچھے، اوپر نیچے جہات ستہ میں نور ہی نور ہو جائے اور جن باتوں سے آنکھوں اور کانوں کے ذریعہ دل پر برا اثر پڑتا ہے وہی میرے اردگرد سے فنا ہو کر ان کی بجائے تقویٰ اور طہارت کے پیدا کرنے والے نظارے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیں۔پھر اس خیال سے کہ پوشیدہ در پوشیدہ ذرائع سے بھی دل ملوث ہوتا ہے۔فرمایا کہ وجعن ٹی نُورا میرے لئے نور کے دروازے کھول دے ظلمت سے میرا کچھ تعلق ہی نہ رہے نور ہی سے میرا اواسطہ ہو اس دعا کو پڑھ کر ہر ایک تعصب سے کو را آدمی سمجھ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی یا پیام بدیوں سے کیسے متنفر تھے۔شفقت على النفس بہت سے انسان اپنی حماقت سے بجائے فائدہ کے الٹا نقصان کر لیتے ہیں اور اپنے نزد یک جسے خوبی سمجھتے ہیں وہ دراصل برائی ہوتی ہے اور اس پر عامل ہو کر تکلیف اٹھاتے ہیں۔بہت سے لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کو خوامخواہ کی مشقت میں ڈال کر ا (112)