سیرت النبی ؐ — Page 111
ہے کیونکہ پھر جو گناہ ہوگا وہ غلطی سے ہوگا یا نامنہمی سے نہ کہ جان بوجھ کر۔ہاں جب دل گندہ ہو جائے تو اس کا ثر جو روح پر پڑتا ہے اور وہ قسم قسم کے گناہوں کا ارتکاب شروع کر دیتے ہیں۔ایک چور بے شک اپنے ہاتھ سے کسی کا مال اٹھاتا ہے لیکن دراصل ہاتھ ایک باطنی حکم کے ماتحت ہو کر کام کر رہا ہے اور اصل باعث وہ دل کی حرص ہے جس نے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ غیر کا مال اٹھا لے۔اسی طرح اگر ایک جھوٹا جھوٹ بولتا ہے تو گوخلاف واقعہ کلمات اس کی زبان پر ہی جاری ہوتے ہیں لیکن نہیں کہہ سکتے کہ زبان نے جھوٹ بولا کیونکہ وہ دل کے اشارہ پر کام کرتی ہے اور اسے جس طرح اس کا حکم پہنچا اس نے کام کر دیا۔اسی لئے رسول اللہ صلی ا یہ ہم نے فرمایا کہ اَلَا وَانَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ ( بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبر الدينه ) جسم انسان میں ایک لوتھڑا ہے کہ جب وہ درست ہو جائے تو سب جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سب جسم بگڑ جاتا ہے۔خبر دار ہوکر سنو کہ وہ دل ہے۔پس دل کے نیک ہونے سے جوارح سے بھی نیک اعمال ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے خراب ہو جانے سے ہاتھ پاؤں آنکھیں کان اور زبان سب خراب ہو جاتے ہیں۔اسی وجہ سے آنحضرت سائنسی ایم نے اپنی دعا میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ہے کہ النبی میرے دل میں نور بھر دے۔جب دل میں نور بھرا گیا تو پھر ظلمت کا گزر کیونکر ہو سکتا ہے اور گناہ ظلمت سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔جس طرح گناہ دل سے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح دل کو خراب کرنے کے لئے کوئی بیرونی سامان ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے دل اپنی اصل حالت سے نکل جاتا ہے اس لئے رسول کریم مائی لی یہ تم نے دل میں نور بھرنے کی درخواست کے بعد دعا فرمائی کہ (111)