سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 102

مذاہب کے بانیوں کی نسبت بدگوئی میں ابتداء سے ہی بچتے اور پر ہیز کرتے ہوں۔پنڈت دان اور پن کے متعلق طول طویل کتھا میں پڑھ کر لوگوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں مگر اپنے آپ کو کسی قسم کے دان پن سے بری سمجھتے ہیں۔غرضیکہ جب روزانہ زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو اکثر واعظ ایسے ہی ملتے ہیں کہ جو کل پند و نصائح کو دوسروں کے لئے واجب العمل قرار دیتے ہیں مگر اپنے نفوس کو بنی نوع انسان سے خارج کر لیتے ہیں اور ایسے بہت ہی کم ہیں کہ جن کا قول و فعل برابر ہو اور وہ لوگوں کو نصیحت کرتے وقت ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی ملامت کرتے جائیں بلکہ لوگوں کو کہنے سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کریں۔پس گو یہ بات بظاہر بالکل معمولی معلوم ہوتی ہے کہ واعظ تو بدیوں سے بچتے ہی ہوں گے لیکن دراصل یہ ایک نہایت مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چل کر بہت کم لوگ ہی منزل مقصود کو پہنچتے ہیں اور ابتداء دنیا سے آج تک جس قدر واعظ ایسے گزرے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ دوسروں کو کہا اس پر خود بھی عامل ہوئے ان کے سردار اور رئیس ہمارے آنحضرت صلی لا الہ ستم تھے آپ کی ساری زندگی میں ایک بات بھی ایسی نہیں ملے گی کہ آپ کی اور دوسروں کی مصلحتیں ایک ہی ہوں مگر پھر بھی آپ نے دوسروں کو اور حکم دیا ہو اور اپنے لئے کچھ اور ہی تجویز کر لیا ہو۔بعض اوقات خود صحابہ چاہتے تھے کہ آپ آرام فرما ئیں اور اس قدر محنت نہ کریں لیکن آپ قبول نہ فرماتے۔اگر لوگوں کو عبادت النبی کا حکم دیتے تو خود بھی کرتے اگر لوگوں کو بدیوں سے روکتے تو خود بھی رکتے غرضیکہ آپ نے جس قدر تعلیم دی ہے ہم بغیر کسی منکر کے انکار کے خوف کے کہہ سکتے ہیں کہ اس پر آپ خود عامل تھے اور شریعت اسلام کے جس قدر احکام آپ کی ذات پر وارد ہوتے تھے سب کو نہایت کوشش اور تعہد کے ساتھ بجالاتے مگر (102)