سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 92

اپنے وقت کو وصیت میں صرف کرتا ہے میرے فلاں مال کو فلاں کے سپر د کرنا اور میری بیوی سے یہ سلوک کر نا اور بیٹیوں سے یوں حسن سلوک سے پیش آنا فلاں سے میں نے اس قدر روپیہ لینا ہے اور فلاں کو اس قدر دینا ہے غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو روزانہ ہر گھر میں دوہرائی جاتی ہیں اور چونکہ موت کا سلسلہ ہر جگہ لگا ہوا ہے اور ہر فرد بشر کو اس دروازہ سے گزرنا پڑتا ہے اس لئے تمام لوگ ان کیفیات کو جانتے ہیں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔میرا آقا جہاں اور ہزاروں باتوں میں دوسرے انسانوں سے اعلیٰ اور مختلف ہے وہاں اس بات میں بھی دوسروں سے بالا تر ہے۔اس میرے سردار کی موت کا واقعہ کوئی معمولی سا واقعہ نہیں کس گمنامی کی حالت سے ترقی پاکر اس نے اس عظیم الشان حالت کو حاصل کیا تھا اور کس طرح خدا تعالیٰ نے اسے ہر دشمن پر فتح دی تھی اور ہر میدان میں غالب کیا تھا۔ایک بہت بڑی حکومت کا مالک اور بادشاہ تھا اور ہزاروں قسم کے انتظامات اس کے زیر نظر تھے لیکن اپنی وفات کے وقت اسے ان چیزوں میں سے ایک کا بھی خیال نہیں۔نہ وہ آئندہ کی فکر کرتا ہے نہ تدابیر ملکی کے متعلق وصیت کرتا ہے نہ اپنے رشتہ داروں سے متعلق ہدایات لکھواتا ہے بلکہ اس کی زبان پر اگر کوئی فقرہ جاری ہے تو یہی کہ اللهُم فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى اللَّهُمَّ فِي الرفيق الأغلى اے میرے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ دے اے میرے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ دے۔اس فقرہ کو ذرا مضطر بانہ حرکات سے مقابلہ کر کے دیکھو جو عام طور سے مرنے والوں سے سرزد ہوتی ہیں کیسا اطمینان ثابت ہوتا ہے۔کیسی محبت ہے۔ساری عمر آپ خدا تعالیٰ کو یاد کرتے رہے اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے۔خلوت و جلوت غرضیکہ ہر جگہ آپ کو خدا ہی خدا یاد تھا اور اسی کا ذکر آپ کی زبان پر جاری تھا اور اب جبکہ وفات کا وقت آیا تب بھی بجائے کسی 92