سیرت النبی ؐ — Page 67
ڈال رہا تھا۔دوسرے حضرت موسی کے ساتھ فوج تھی اور ان کے آگے بھاگنے کی جگہ ضرور موجود تھی لیکن رسول کریم کے ساتھ نہ کوئی جماعت تھی اور نہ آپ کے سامنے کوئی اور راستہ تھا اسی طرح اور بھی بہت سے فرق ہیں جو طوالت کی وجہ سے میں اس جگہ بیان نہیں کرتا۔آپ کی ایک دعا:- رسول کریم کو خدا تعالیٰ پر ایسا تو گل تھا کہ ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اسی پر نظر رکھتے اور اس کے سوا ہر شے سے توجہ ہٹا لیتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ آجکل کے صوفیاء کی طرح اسباب کے تارک نہ تھے کیونکہ اسباب کا ترک گو یا خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہتک کرنا اور اس کی پیدائش کو لغو قرار دینا ہے۔لیکن اسباب کے مہیا کرنے کے بعد آپ بکلی خدا تعالیٰ پر توکل کرتے اور گو اسباب مہیا کرتے لیکن ان پر بھروسہ اور تو گل کبھی نہ کرتے تھے اور صرف خدا ہی کے فضل کے امید وار رہتے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ ہر ایک گھبراہٹ کے وقت فرماتے۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الشموتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيم ( بخاری جلد ۲ کتاب الدعوات باب الدعا عند الكرب ) کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے وہ رب ہے بڑے تخت حکومت کا۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ آسمانوں کا رب ہے وہ زمین کا رب ہے۔وہ بزرگ تخت کا رب ہے۔( یعنی میرا بھروسہ اور تو گل تو اسی پر ہے ) اپنی اولا د کو صدقہ سے محروم کر دیا : - اسلام کے عظیم الشان احکام میں سے زکوۃ اور صدقہ کے احکام ہیں۔ہر مسلمان پر جس کے پاس چالیس سے زائد روپے ہوں اور ان پر سال گزر جائے فرض ہے کہ ان میں سے چالیسواں حصہ وہ خدا کی راہ میں دے دے۔یہ مال محتاجوں اور غریبوں پر خرچ کیا جاتا ہے 67