سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 29

اس کی توبہ قبول ہو جائے اور اسے خدا کی رضاء کے حاصل کرنے کا موقع مل جائے۔اس حدیث سے رسول کریم صلی نیلم کی خشیت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی قدرت، بڑائی اور جلال کا کیسا صحیح اندازہ لگایا تھا اور کس طرح آپ کے دل پر حقیقت منکشف تھی کہ آپ ان اعمال کے ہوتے ہوئے بھی اس بادشاہ کی غناء سے ایسے خائف تھے کہ فرماتے کہ خدا کا فضل ہی ہو تو نجات ہو ورنہ اس کے فضل کے بغیر نجات کیونکر ہوسکتی ہے۔علاوہ ازیں اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ اسلام نجات کو اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کے فضل کا نتیجہ قراردیتا ہے ہاں اعمال صالحہ خدا کے فضل کے جاذب ہوتے ہیں اس لئے رسول کریم سنا تم نے فرمایا کہ نجات خدا کے فضل سے ہے اس لئے تم نیکی اور تقویٰ سے کام لو معلوم ہوا کہ نیکی اور اعمال صالحہ فضل کے جاذب ہیں چنانچہ ایک دوسری حدیث میں اس کی اور تشریح ہو جاتی ہے۔حضرت ابوہریرہ ہی اس حدیث کے بھی راوی ہیں اور اس میں انہوں نے پہلی حدیث سے اتنازیادہ بیان فرمایا ہے وَاغْدُ وَاوَرُوْحَوْا وَشَيْيَ مِنَ الدُّلْجَةِ وَالْقَصْدَا القَصْدَ تَبْلُغُو( بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل) یعنی خدا کے فضل کے سوانجات نہیں اسی لئے صبح کے وقت عبادت کرو اور شام کے وقت بھی اور کچھ رات کے وقت بھی اور خوب قصد کرو۔پوری طرح سے قصد کرو۔جنت میں پہنچ جاؤ گےاس حدیث سے صاف کھل جاتا ہے کہ اپنے اعمال کو فضل کا جاذب قرار دیا ہے۔استغفار کی کثرت:- لوگ گناہ کرتے ہیں اور پھر جرات کرتے ہیں اور خدا کا خوف ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتا اور ایسے سنگدل ہو جاتے ہیں کہ کبھی ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد نہ بن جائیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے میں نے ایک شخص سے ذکر کیا کہ تم تو بہ واستغفار کیا کرو اور نیکی میں ترقی کرو اس نے مجھے جواب دے دیا کہ کیا آپ 29