سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 240

قلم اٹھاتے ہیں۔پس میرا آپ کے مقابلہ میں دیگر امراء کی امثلہ پیش کرنا یا ان کی زندگی کی طرف متوجہ کرنا صرف اس غرض کے لئے ہوتا ہے کہ تا بتاؤں کہ اچھے سے اچھے نمونہ کو بھی آپ کے سامنے لاؤ کبھی وہ آپ کے آگے چمک نہیں سکتا بلکہ آپ کے سامنے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے نصف النہار کے سورج کے مقابلہ میں شب چراغ۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔میں اس وقت یہ بیان کر رہا تھا کہ گو بعض امراء تکبر سے خالی تو مل سکتے ہیں لیکن منکسر المزاج امراء بہت ہی کم اور شاذ و نادر ہی ملیں تو ملیں لیکن رسول کریم ملایی تم ایک بادشاہ ہو کر جس منکسر المزاجی سے رہتے تھے وہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔عرب کی سی قوم کا بادشاہ لاکھوں انسانوں کی جان کا مالک بڑوں اور چھوٹوں کے سامنے اس انکسار سے کام لیتا ہو ا نظر آتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔دنیا کے بادشاہوں اور امراء کی زندگی کو دیکھو اور ان کے حالات پڑھو تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی اپنے سے ادنی آدمی کو سلام کہنا تو درکنار، اس کے سلام کا جواب دنیا بھی پر اُن پر دوبھر ہوتا ہے۔اول تو بہت سے ہوں گے جو معمولی آدمی کے سلام پر سر تک بھی نہ ہلائیں گے تو بعض ایسے ملیں گے جو صرف سر ہلا دینا کافی سمجھیں گے۔ان سے بھی کم وہ ہوں گے جو سلام کا جواب دے دیں گے اور جو ابتداء میں سلام کریں وہ تو بہت ہی کم ملیں گے کیونکہ جن کی طبیعت میں تکبر نہ ہو وہ اس بات کو پسند نہ کریں گے کہ کوئی غریب آدمی ان کو سلام کہے تو وہ اس کے سلام کا جواب نہ دیں لیکن ابتداء ایک غریب آدمی کو سلام کہنا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھیں گے۔لیکن رسول کریم مالی پریتم کی زندگی کے حالات پڑھ کر دیکھو کہ آپ ہمیشہ سلام کہنے میں سبقت کرتے تھے اور کبھی اس بات کے منتظر نہ رہتے تھے کہ کوئی غریب آدمی آپ کو خود بڑھ کر سلام کرے بلکہ آپ کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ آپ ہی پہلے سلام 240