سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 229

کر سکتے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ بہت سے لوگ جن کے دل انصاف سے کورے نہ تھے۔ان کی تائید میں کھڑے ہو گئے اور آخر وہ معاہدہ پھاڑ کر پھینک دیا گیا۔اور آنحضرت سائیں یہ اہم اور آپ کے قبیلہ کے لوگ اس قید سے آزاد ہوئے۔مطعم بن عدی بھی ان پانچ اشخاص میں سے ایک تھا اور یہی تھا کہ جس نے بڑھ کر اس معاہدہ کو پھاڑ کر پھینک دیا۔علاوہ ازیں جب آنحضرت سائیں یہ تم طائف کے لوگوں کو دعوت اسلام دینے کے لئے تشریف لے گئے۔اور آپ سے وہاں کے بدمعاشوں نے سخت ظلم کا سلوک کیا اور آپ کے پیچھے لڑکے اور کتے لگا دیئے تو آپ کو واپس مکہ میں آنا پڑا لیکن یہ وہ وقت تھا کہ مکہ کے لوگ بھی سخت سے سخت شرارت پر آمادہ ہو رہے تھے۔اور آپ کو وہاں بھی امن ملنا مشکل تھا اس وقت مطعم بن عدی نے آگے آکر آپ کو اپنے جوار میں لیا اور اپنی ذمہ داری پر آپ کو پناہ دی۔یہ وہ احسانات تھے جو مطعم بن عدی نے آپ پر کئے تھے۔اور جبیر بن مطعم سے آپ کا مذکورہ بالا کلام ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو ہمیشہ خیال رہتا تھا کہ کاش وہ زندہ ہوتا۔اور میں اس کے احسانات کا بدلہ اتارتا۔چونکہ مطعم نے آپ کو اور آپ کے قبیلہ کو اس قید سے آزاد کرانے میں بہت کوشش کی تھی جس میں آپ بوجہ قریش کے غیر منصفانہ معاہدہ کے گرفتار تھے۔اور پھر اس وقت جبکہ آپ کے دشمن آپ کو قسم قسم کی تکلیف پہنچانے پر آمادہ تھے آپ کو پناہ دی تھی۔آپ کی توجہ بدر کے قیدیوں کو دیکھ کر اور یہ خیال کر کے کہ وہ لوگ جو چند سال پہلے مجھے اپنے ہاتھ میں خیال کرتے تھے آج میرے ہاتھ میں گرفتار ہیں فورا مطعم کے اس احسان کی طرف گئی اور اس احسان کو یاد کر کے فرمایا کہ جس طرح مطعم نے ہمیں قید سے آزاد کر وایا تھا اور 229