سیرت النبی ؐ — Page 224
النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَادُوْوِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلُوةً دَاوَمَ عَلَيْهَا ( کتاب الصوم باب صوم شعبان) ترجمہ آپ فرما یا کرتے تھے۔کہ وہ عمل کیا کرو جس کے ادا کرنے کی تم میں طاقت ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں ملول ہوتا یہاں تک کہ تم ملول نہ ہو جاؤ۔( یعنی جس قدر بھی دعا اور عبادت کرو۔اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں رکھتا۔ہاں تم خود ہی تھک کر رہ جاؤ تو رہ جاؤ۔اس لئے اس قدر عمل مت کرو۔کہ آخر طبیعت میں نفرت پیدا ہو جائے۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے گنہ گار بنو ) اور آنحضرت مالامالی ہم کو نمازوں میں سب سے پیاری وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام اختیار کیا جائے۔خواہ تھوڑی ہی ہو اور آنحضرت سالی سیستم جب کسی وقت نماز پڑھتے تھے تو پھر اس وقت کو جانے نہ دیتے تھے۔ہمیشہ اس وقت نماز پڑھتے رہتے۔حضرت عائشہ کی اس گواہی سے نہایت بین اور واضح طور سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آنحضرت صلی یا اسلام کا استقلال ہر رنگ میں کامل تھا۔اور خواہ بڑے کام ہوں یا چھوٹے۔آپ استقلال کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔چنانچہ اس شہادت سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔ا۔صحابہ کو استقلال کا سبق پڑھانا۔اور ہمیشہ انہیں استقلال کی تعلیم دیتے رہنا۔کیونکہ طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا نتیجہ ہمیشہ بے استقلالی ہوتا ہے۔اور آپ کا اس بات سے صحابہ کو روکنا در حقیقت انہیں استقلال کی تعلیم دینا تھا۔اور یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ہے جس میں کوئی نبی آپ کا شریک نہیں کہ آپ قرآن کریم کے طریق کے مطابق جب کبھی کسی نیکی کا حکم کرتے یا بدی سے روکتے تو ہمیشہ اس نیکی کے حصول کی آسان راہ ساتھ بتاتے۔یا اس بدی کا اصل باعث ظاہر کرتے تا کہ اس سے اجتناب کر کے انسان اس بدی سے بچ جائے۔اور اسی اصل کے ماتحت آنحضرت مسل لی کہ ہم نے استقلال کی تعلیم 224