سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 165

ال مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبَرِ ثَلَاثَ لِيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قبض ( بخاری کتاب الاطعمۃ باب ما کان النبی ﷺ و اصحابه یا کلون) یعنی رسول اللہ صلی اسلم کی آل نے اس وقت سے کہ آپ مدینہ تشریف لائے اس وقت تک کہ آپ فوت ہو گئے تین دن متواتر گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی۔ان تینوں حدیثوں کو ملا کر روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضرت سلیا کی ہستم نے نہایت سادگی سے زندگی بسر کی اور باوجود اس محنت اور مشقت کے جو آپ کو کرنی پڑتی تھی آپ اپنے کھانے پینے میں اسراف نہ فرماتے تھے اور اسی قدر کھاتے جو زندگی کے بحال رکھنے کے لئے ضروری ہو اور آپ کا کھانا عبادت اور قوت کے قائم رکھنے کے لئے تھا نہ کہ آپ کی زندگی دنیا کے بادشاہوں کی طرح کھانوں کی خواہش میں گزرتی تھی۔آپ ہی اس مصرع کے پورا کر نیوالے تھے۔خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ آپ کا کھانا بھی نہایت سادہ ہوتا تھا اور جو کچھ کھاتے تھے اس میں بھی بہت تکلفات سے کام نہ لیتے تھے۔حضرت انس سے روایت ہے کہ مَا عَلِمْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَلَى سَكَرَجَةٍ قَطُّ وَلَا خَبِزَ لَهُ مُرَقَقَ قَطُّ وَلَا أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ قَطُّ قِيلَ لِقَتَادَةَ فَعَلَى مَا كَانُوْايَا كُلُوْنَ قَالَ عَلَى السُّفَر ( بخاری کتاب الاطعمۃ باب الخبز لمرقق والاكل على الخوان ) مجھے نہیں معلوم ہوا کہ آنحضرت نے کبھی تشتریوں میں کھایا ہو اور نہ آپ کے لئے کبھی چپاتیاں پکائی گئیں اور نہ کبھی آپ نے تخت پر کھایا۔قتادہ رضی اللہ عنہ سے( جنہوں نے حضرت انس سے روایت کی ہے ) سوال کیا گیا کہ پھر وہ کس پر کھایا کرتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ دستر خوان پر۔(165)