سیرت النبی ؐ — Page 155
نیک سمجھیں۔اگر مسلمان ہیں تو وضو میں خاص اہتمام کریں گے اور بہت دیر وضو کے اعضا کو دھوتے رہیں گے اور وضو کے قطروں سے پر ہیز کریں گے۔سجدہ اور رکوع لمبے لمبے کریں گے۔اپنی شکل سے خاص حالت خشوع و خضوع ظاہر کریں گے اور خوب وظائف پڑھیں گے مگر آنحضرت سالی یہ اہم باوجود اس کے کہ سب سے اتقی اور اور ع تھے اور آپ کے برابر خشیت اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے آپ ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلفات سے پاک تھی۔ابوقتادہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرما یا إِنَىٰ لَا قَوْمُ فِي الصَّلُوةِ أُرِيدُ أَنْ أَطَوَلَ فِيهَا فَأَسْمَعْ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَاتَجَوَزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ اَنْ اَشْقَ على أمه ( بخاری کتاب الصلوۃ باب من اخف الصلوةعندبکاء الصبی) یعنی میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کولمبا کر دوں مگر کسی بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز اس خوف سے کہ کہیں میں بچہ کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں نماز مختصر کر دیتا ہوں۔کس سادگی سے آنحضرت نے فرمایا کہ ہم بچہ کی آواز سنکر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں۔آجکل کے صوفیاء تو ایسے قول کو شاید اپنی ہتک سمجھیں کیونکہ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوئے کہ کچھ خبر ہی نہیں رہی۔اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا۔مگر آنحضرت ان تکلفات سے بری تھے۔آپ کی عظمت خدا کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپ کو معزز بنایا تھا۔یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں۔حضرت انس سے روایت ہے کہ أَنَّهُ سُئِلَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّىٰ فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعْمَ ( بخاری کتاب الصلوۃ باب الصلوۃ فی النعال ) یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم (155)