سیرت النبی ؐ — Page 5
کھانے پینے کے متعلق آپ تمام طیب اشیاء کھاتے تھے لیکن اس بات کا لحاظ رکھتے تھے کہ وہ صدقہ نہ ہوں۔حتی کہ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی یا پیام فرمایا کرتے تھے کہ میں بعض دفعہ گھر جاتا ہوں اور وہاں بستر پر کوئی کھجور پڑی دیکھتا ہوں تو پہلے تو کھانے کے لئے اٹھالیتا ہوں لیکن پھر اس خیال سے کہ کہیں صدقہ نہ ہو پھینک دیتا ہوں۔اس بات سے اس وقت کے مسلمانوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیئے اور دیکھنا چاہئے کہ ان کا رسول صلی ما تم صدقہ سے کس قدر پر ہیز کرتا تھا۔اب تو بعض لوگ اچھا بھلا مال رکھتے ہوئے بھی صدقہ کے لینے میں مضائقہ نہیں کرتے۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ کوئی جب کوئی چیز آپ کو دیتا آپ پوچھتے۔اگر ہدیہ ہوتی تو خود بھی استعمال فرماتے ورنہ آس پاس کے غرباء میں تقسیم کر دیتے۔آپ کی خوراک ایسی سادہ تھی کہ اکثر کھجور اور پانی پر گزارہ کرتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ کے انصار ہمسائے دودھ تحفہ بھیجتے تو اکثر ہم لوگوں کو پلا دیتے لیکن باوجود اس قدر سادگی کے طیبات سے پر ہیز نہ تھا اور جھوٹے صوفیوں کی طرح آپ مطیبات کو ترک نہ کر بیٹھے تھے بلکہ آپ معمدہ سے عمدہ غذا ئیں جیسے مرغ وغیرہ بھی کھا لیتے تھے۔پانی پیتے وقت آپ کی یہ عادت تھی کہ تین دفعہ بیچ میں سانس لیتے اور یکدم پانی نہ چڑھا جاتے۔نہ صرف اس میں آپ کا وقار پایا جاتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اپنی صحت کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔گوشت کو آپ پسند فرماتے تھے لیکن اس کا زیادہ استعمال نہ تھا کیونکہ سادہ زندگی کی وجہ سے آپ کھجور اور پانی پر ہی کفایت کر لیتے۔ایک صحابی " یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کے سامنے کروپ کا کر رکھا گیا تو آپ نے اسے بہت پسند فرمایا۔ان تمام کھانوں کے ساتھ آپ اصل مالک کو 5