سیرت النبی ؐ — Page 119
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ سالث النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَل أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَوةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ أَى قَالَ بِرَ الْوَالِدَيْنِ قَالَ ثُمَّ أَيُّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِى بِهِنَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوِ اسْتَزَ ذَتْهُ لَزَادَنِی ( صحیح بخاری کتاب المواقیت باب فضل الصلوہ لوقتها) میں نے نبی کریم صلی یا یہ تم سے پوچھا کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیارا ہے۔فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرنا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر کونسا عمل۔فرمایا کہ والدین سے نیکی کرنا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر کون ساعمل ہے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوشش کرنا۔عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ مجھ سے نبی کریم نے یہ بیان فرمایا اور اگر میں آپ سے اور پوچھتا تو آپ اور بتاتے۔بظاہر تو یہ حدیث ایک ظاہر بین کو معمولی معلوم ہوتی ہوگی لیکن غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کا وقار کیسا تھا کہ صحابہ آپ سے جس قدر سوال کئے جائیں آپ گھبراتے نہ تھے بلکہ جواب دیتے چلے جاتے اور صحابہ کو یقین تھا کہ آپ ہمیں ڈانٹیں گے نہیں۔امراء کو ہم دیکھتے ہیں کہ ذرا کسی نے دو دفعہ سوال کیا اور چیں بجبیں ہو گئے۔کیا کسی کی مجال ہے کہ کسی بادشاہ وقت سے بار بار سوال کرتا جائے اور وہ اسے کچھ نہ کہے بلکہ بادشاہوں اور امراء سے تو ایک دفعہ سوال کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اور وہ سوالات کو پسند ہی نہیں کرتے اور سوال کرنا اپنی شان کے خلاف اور بے ادبی جانتے ہیں اور اگر کوئی ان سے سوال کرے تو اس پر سخت غضب نازل کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ہم رسول کریم صلی یہ تم کو جانتے ہیں کہ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہونے کے طبیعت میں ایسا وقار ہے کہ ہر ایک چھوٹا بڑا جو دل میں آئے آپ سے پوچھتا ہے اور جس قدر چاہے سوال کرتا ہے۔لیکن آپ اس پر بالکل ناراض نہیں ہوتے بلکہ (119)