سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 92
سیرت المہدی 92 حصہ چہارم صاحبزادہ جو غالبًا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تھے پاس لیٹے تھے۔اور ایک شتری چوغہ انہیں اُڑھا رکھا تھا۔معلوم ہوا کہ آپ نے بھی اپنا لحاف اور بچھونا طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا۔میں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا اور سردی بہت ہے۔فرمانے لگے کہ مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور ہمارا کیا ہے، رات گزرہی جائے گی۔نیچے آکر میں نے نبی بخش نمبر دار کو بہت برا بھلا کہا کہ تم حضرت صاحب کا لحاف بچھونا بھی لے آئے۔وہ شرمندہ ہوا۔اور کہنے لگا کہ جس کو دے چکا ہوں اس سے کس طرح واپس لوں۔پھر میں مفتی فضل الرحمن صاحب یا کسی اور سے ٹھیک یاد نہیں رہا۔لحاف بچھونا مانگ کر اوپر لے گیا۔آپ نے فرما یا کسی اور مہمان کو دے دو۔مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آیا کرتی۔اور میرے اصرار پر بھی آپ نے نہ لیا۔اور فرمایا کسی مہمان کو دے دو۔پھر میں لے آیا۔1119 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ چوہدری رستم علی خاں صاحب مرحوم انسپکٹر ریلوے تھے۔ایک سو پچاس روپیہ ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔بڑے مخلص اور ہماری جماعت میں قابل ذکر آدمی تھے۔وہ بیس روپیہ ماہوار اپنے پاس رکھ کر باقی کل تنخواہ حضرت صاحب کو بھیج دیتے تھے۔ہمیشہ اُن کا یہ قاعدہ تھا۔ان کے محض ایک لڑکا تھا۔وہ بیمار ہوا تو وہ اُسے قادیان لے آئے مع اپنی اہلیہ کے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان میں قیام پذیر ہوئے۔حضرت اقدس نے ایک دن فرمایا کہ رات میں نے رویاء دیکھا۔کہ میرے خدا کو کوئی گالیاں دیتا ہے۔مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا۔جب آپ نے رویاء کا ذکر فرمایا تو اُس سے اگلے روز چوہدری صاحب کا لڑکا فوت ہو گیا۔کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا۔اس کی والدہ نے بہت جزع فزع کی اور اس حالت میں اس کے منہ سے نکلا۔ارے ظالم! تو نے مجھ پر بڑا ظلم کیا۔ایسے الفاظ وہ کہتی رہی۔جو حضرت صاحب نے سن لئے۔اُسی وقت آپ باہر تشریف لائے اور آپ کو بڑا رنج معلوم ہوتا تھا۔اور بڑے جوش سے آپ نے فرمایا۔کہ اسی وقت وہ مرد و عورت میرے گھر سے نکل جائے۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی والدہ جو بڑی دانشمند اور فہمیدہ تھیں۔انہوں نے چوہدری صاحب کی بیوی کو سمجھایا اور کہا کہ حضرت صاحب سخت ناراض ہیں۔اُس نے توبہ کی اور معافی مانگی اور کہا کہ اب میں رونے کی بھی نہیں۔میر صاحب کی والدہ نے حضرت صاحب سے آکر ذکر کیا۔کہ اب