سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 93
سیرت المہدی 93 حصہ چہارم معافی دیں۔وہ تو بہ کرتی ہے۔اور اُس نے رونا بھی بند کر دیا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا اُسے رہنے دو اور تجہیز وتکفین کا انتظام کرو۔1120 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کا جب انتقال ہوا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر تشریف لائے۔میں موجو دتھا۔فرمایا کہ لڑکے کی حالت نازک تھی۔اس کی والدہ نے مجھ سے کہا کہ آپ ذرا اس کے پاس بیٹھ جائیں۔میں نے نماز نہیں پڑھی۔میں نماز پڑھ لوں۔فرمایا کہ وہ نماز میں مشغول تھیں کہ لڑکے کا انتقال ہو گیا۔میں ان خیالات میں پڑ گیا کہ جب اس کی والدہ لڑکے کے فوت ہونے کی خبر سنے گی تو بڑا صدمہ ہوگا۔چنانچہ انہوں نے سلام پھیرتے ہی مجھ سے پوچھا کہ لڑکے کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا کہ لڑکا تو فوت ہو گیا۔انہوں نے بڑے انشراح صدر سے کہا کہ الحمدللہ ! میں تیری رضا پر راضی ہوں۔ان کے ایسا کہنے پر میرا غم خوشی سے بدل گیا اور میں نے کہا اللہ تعالیٰ تیری اولاد پر بڑے بڑے فضل کرے گا۔باہر جب آپ تشریف لائے ہیں تو اس وقت آپ کا چہرہ بشاش تھا۔کئی دفعہ میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ کسی کی بیماری کی حالت میں بہت گھبراتے تھے اور مریض کو گھڑی گھڑی دیکھتے اور دوائیں بدلتے رہتے تھے۔مگر جب مریض فوت ہو جاتا تو پھر گویا حضور کو خبر بھی نہیں ہوتی تھی۔چنانچہ میاں مبارک احمد صاحب کی بیماری میں بھی بہت گھبراہٹ حضور کو تھی اور گھڑی گھڑی باہر آتے تھے۔پھر دوا دیتے۔لیکن اس کی وفات پر حضرت ام المومنین کے حد درجہ صبر کا ذکر کر کے حضور بڑی دیر تک تقریر فرماتے رہے۔فرمایا کہ جب قرآن شریف ميں إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِین کہ جب صابروں کے ساتھ اللہ کی معیت ہے تو اس سے زیادہ اور کیا چاہئے۔لڑکے کا فوت ہونا اور حضور کا تقریر کرنا ایک عجیب رنگ تھا۔1121 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ محکمہ ریلوے سروس میں ریکار ڈ کلرک رہنے کے بعد چونکہ اس پوسٹ میں آئیندہ ترقی کی کوئی امید نہ تھی۔اس لئے میرے والد صاحب نے میرا تبادلہ صیغہ پولیس میں کروا دیا۔اور سب انسپکٹری بٹھنڈہ پر میری ماموری ہوگئی۔لیکن یہ تبادلہ میری خلاف مرضی ہوا تھا۔ورنہ میں صیغہ پولیس کو اپنی طبیعت کے خلاف محسوس کرتا تھا۔