سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 91
سیرت المہدی 91 حصہ چہارم تو چراغ خادم نے آ کر کہا کہ پوریاں اور حلوا خوب کھایا جائے اس سے ہیضہ نہیں ہوگا۔اُس نے زنانہ میں آکر یہ ذکر کیا تھا۔دراصل اُس نے مذاق کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پانچ چھ روپے لے کر باہر تشریف لائے اور مولوی عبد الکریم صاحب سے فرمایا کہ دوستوں کو کھلایا جائے کیونکہ چراغ کہتا تھا کہ ایسی منادی ہورہی ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کیا کہ چراغ تو شریر ہے۔یہ چیز تو ہیضہ کے لئے مضر ہے۔چراغ نے تو ویسے ہی کہہ رہا ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہم نے تو یہ سمجھا تھا کہ اسے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔شاید کوئی نئی تحقیق ہوئی ہو۔آپ پھر گھر میں تشریف لے گئے۔آپ کے جانے کے بعد میں نے چراغ کو ڈانٹا کہ تم نے یہ کیا بات کی تھی۔اُس نے کہا کہ مجھے کیا معلوم تھا کہ حضرت جی اندر بیٹھے ہیں۔1117 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خارش ہوگئی۔اور انگلیوں کی گھائیوں میں پھنسیاں تھیں اور تر تھیں۔دس بجے دن کے میں نے دیکھا تو آپ کو بہت تکلیف تھی۔میں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا آیا۔عصر کے بعد جب میں پھر گیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔میں نے عرض کیا کہ خلاف معمول آج حضور کیوں چشم پرنم ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میرے دل میں ایک خیال آیا کہ اے اللہ ! اس قدر عظیم الشان کام میرے سپرد ہے اور صحت کا میری یہ حال ہے کہ اس پر مجھے پُر ہیبت الہام ہوا کہ تیری صحت کا ہم نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟ فرمایا کہ اس الہام نے میرے وجود کا ذرہ ذرہ ہلا دیا۔اور میں نہایت گریہ وزاری کے ساتھ سجدہ میں گر گیا۔خدا جانے کس قدرعرصہ مجھے سجدہ میں لگا۔جب میں نے سر اٹھایا تو خارش بالکل نہ تھی اور مجھے اپنے دونوں ہاتھ حضور نے دکھائے کہ دیکھو کہیں پھنسی ہے؟ میں نے دیکھا تو ہاتھ بالکل صاف تھے۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی پھنسی بالکل نکلی ہی نہیں۔1118 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر بہت سے آدمی جمع تھے۔جن کے پاس کوئی پارچہ سرمائی نہ تھا۔ایک شخص نبی بخش نمبر دار ساکن بٹالہ نے اندر سے لحاف بچھونے منگانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتا رہا۔میں عشاء کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ دیئے ہوئے بیٹھے تھے۔اور ایک