سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 85
سیرت المہدی 85 حصہ چہارم اس کے بعد حضور نے بیعت لی۔اس روز ہم دو آدمیوں نے بیعت کی تھی۔پہلے جب وہ صاحب بیعت کر کے کمرے سے باہر آگئے تو حضور کے طلب فرمانے پر عاجز داخل ہوا۔حضور نے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی اور بیعت لی۔بیعت سے قبل خاکسار نے عرض کیا کہ جب میں نے اس سے قبل نقشبندی میں بیعت کی تھی تو کچھ شیرینی تقسیم کی تھی۔اگر اجازت ہو تو اب بھی منگوالی جائے۔فرما یالا زمی تو نہیں اگر آپ کا دل چاہئے تو ہم منع نہیں کرتے۔اور فرمایا۔ایسی باتیں جو آج کل لوگ بطور رسم اختیار کئے ہوئے ہیں۔ان کے ماخذ بھی سنت نبوی سے تلاش اور غور کرنے سے مل سکتے ہیں۔مثلاً یہی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنے کا معاملہ ہے۔حدیث سے ثابت ہے کہ ایک موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر پر کچھ آدمیوں کا مجمع ہو اور وہ تمام کی دعوت کی توفیق نہ رکھتا ہو تو اگر حاضرین کو ایک ایک کھجور بھی تقسیم کر دے تو خدا تعالیٰ اس کو دعوت کا ثواب عطا فرمائے گا۔یہاں سے مجالس میں تبرک وغیرہ کی بنیاد پڑی ہے۔اگر کوئی اس نیت سے ایسا کرے تو وہ علاوہ ثواب دعوت کے عامل سنت ہونے کا اجر بھی پائے گا۔لیکن اب اس کے برعکس تبرک تقسیم کرنے والوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ صرف نام نمود کے لئے ایسا کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنی مجلس میں دال داکھ وغیرہ تقسیم کی ہے ہم جلیبی یا قلاقند تقسیم کریں گے اور دوسری طرف تبرک لینے والوں کا یہ حال ہے کہ اُن کو اس وعظ و پند سے فائدہ اُٹھانے کا مطلب ہی نہیں ہوتا۔جس کے لئے مجلس کا انعقاد ہوا ہو۔بلکہ ان کی ٹولیوں میں دن سے ہی مشورہ ہوتے ہیں کہ فلاں مجلس میں زردہ پلاؤ یا کوئی عمدہ مٹھائی تقسیم ہوگی اس لئے وہاں چلیں گے اور مجلس میں جا کر باہر بیٹھے اونگھتے یا سوتے رہیں گے۔جب تقسیم کا وقت آتا ہے تو سب سے پیش اور سب سے پیش لینے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اگر موقعہ ملے تو ایک سے زیادہ دفعہ بدل کر یا دوسری طرف کی صفوں میں بیٹھ کر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔1109 بسم اللہ الرحمن الرحیم مینشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دن مسجد مبارک میں ریا پر تقریر فرمارہے تھے۔کہ ریا شرک ہے۔تھوڑی سی دیر میں ایک دوست نے پوچھا کہ حضور کو بھی کبھی ریا کا خیال آیا ہے۔فرمایا کہ ریا ہم جنس سے ہوا کرتی ہے۔1110 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ