سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 83

سیرت المہدی 83 حصہ چہارم اجازت مل گئی تو حاضر ہو جاؤں گا۔اتفاق سے اُسی روز اجازت مل گئی۔اور خاکسارا گلے دن صبح ہی لدھیانہ پہنچ گیا۔یہ وہ وقت تھا جب قبلہ میر ناصر نواب صاحب مرحوم انبالہ سے لدھیانہ تبدیل ہو چکے تھے۔بمشکل پتہ لے کر قریب نماز عصر یا بعد نماز عصر جائے قیام حضرت صاحب پر پہنچا۔جمعہ کا دن تھا۔نماز جمعہ خاکسار نے جامع مسجد میں پڑھی۔وہیں سے حضور کے جائے قیام کا پتہ بھی چلا تھا۔مکان مذکور کا بیرونی دروازه شرقی رویہ تھا۔اندر صحن میں چبوترہ بنا ہوا تھا۔اس پر حضرت صاحب مع چند رفقاء کے تشریف فرما تھے اور تقریر فرما رہے تھے۔جو حصہ میں نے تقریر کا سنا اس سے معلوم ہوا کہ موضوع تقریر یہ ہے کہ مسلمان حضور کے اعلان بیعت کے خلاف کیا کیا عذرات کر رہے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ علماء کا گروہ اول تو یہ کہتا ہے کہ یہ کوئی جید عالم نہیں۔نیز فرقہ اہل حدیث والے یہ کہتے ہیں کہ یہ آمین اور رفع یدین جیسی سنت کا تارک ہے اور حنفی کہتے ہیں یہ فاتحہ خلف الامام کا عامل ہے۔اس لئے مجدد کیسے ہو سکتا ہے۔صوفی کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کے ۱۴ خاندان اور ۳۲ خانوادہ جو وہ بناتے ہیں۔اُن میں سے یہ کسی میں داخل نہیں۔پھر ہم اس کی بیعت کیسے کر سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ کوئی ان سے پوچھے کہ تم نے جو ۱۴ اور ۳۲ کی تعداد مقرر کی ہے۔کوئی وقت ایسا بھی تھا۔کہ وہ ایک نمبر سے شروع ہوئے تھے۔خدا نے اب سب کو مٹا کر اب پھر از سرنو نمبرا سے شروع کیا ہے۔اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک گروہ ایسا بھی ہے کہ باوجود ہمارے ساتھ حسن ظن رکھنے کے بیعت سے رکا ہوا ہے۔جس طرح چور کسی مکان میں نقب لگانے کے لئے مکان کے کسی کمز ور حصہ کو منتخب کرتا ہے۔اسی طرح شیطان نے بھی جب دیکھا کہ ایسے لوگ کسر نفسی کے تحت ہی شکار ہو سکتے ہیں ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا کیا کہ یہ بات تو بے شک درست ہے مگر شرائط بیعت ایسی نازک اور مشکل ہیں کہ دنیا دارانہ زندگی میں اُن کی پابندی ناممکن ہے۔جب کلام اس مرحلہ پر پہنچا تو حاجی عبد الرحیم صاحب نے جو اس مجمع میں مجھ سے آگے بیٹھے ہوئے تھے اور جو اس سے قبل ہر ملاقات میں مجھے بیعت کے لئے کہتے تھے اور میں ایسا ہی عذر کر کے ٹلا دیتا تھا انہوں نے حضرت صاحب سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کی۔اجازت ملنے پر میرا ہاتھ پکڑ کر حضرت صاحب کے سامنے کر دیا اور کہا حضور جس گروہ کا حضور نے آخر نمبر پر ذکر فرمایا ہے اُن میں سے ایک یہ شخص بھی ہے۔حضور نے خاکسار کی طرف نظر کر کے فرمایا کہ ہمارے بہت