سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 79

سیرت المہدی 79 حصہ چہارم ہیں؟ اور یہ تاکید فرمائی کہ اس کا جواب اگر ہو سکے تو خود حضرت صاحب سے حاصل کیا جائے۔اگر ایسا موقعہ نہ میسر ہو تو پھر حضرت مولوی نور الدین صاحب سے دریافت کیا جائے۔خاکسار کئی روز کوشش میں رہا۔مگر مناسب موقعہ نہ ملنے کے سبب حضور سے دریافت کرنے کی جرات نہ ہوئی۔آخر جب میں نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا اور وہ شرط بھی ظاہر کر دی جو سائل صاحب نے لگائی تھی۔حضرت مولوی صاحب نے ہنس کر فرمایا۔کہ ابھی رخصت کے دو تین دن ہوں گے۔ہم موقع نکال دیں گے۔چنانچہ اُسی روز یا اگلے روز حضرت صاحب بعد نماز مغرب اوپر تشریف فرما تھے کہ حضرت مولوی صاحب نے میرے حوالہ سے یہ سوال حضور کے گوش گذار کیا۔حضور نے سن کر جوش بھرے لہجہ میں فرمایا۔کہ مولوی صاحب! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ سوال پیدا ہی کیسے ہوتا ہے۔جس شخص کو خدا نے اپنی وحی میں نبی کے لفظ سے نامزد نہ کیا ہو اور جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کے لفظ سے یاد نہ فرمایا ہو۔اور نہ اس شخص نے خود نبوت کا دعوی کیا ہو۔پھر سر پھرا ہے کہ اس کو نبی کے لفظ سے پکارا جائے یا اس کو نبی کہا جائے؟ 1101 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ خاکسار چند روز کے لئے قادیان میں مقیم تھا۔ایک دفعہ صبح آٹھ بجے کے قریب اطلاع ملی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جارہے ہیں۔خاکسار بھی ساتھ ہولیا۔حضور ایسے تیز قدم جارہے تھے کہ کوشش کر کے شامل رہا جاتا تھا۔پندرہ بیس کے قریب افراد حضور کے ساتھ ہوں گے۔حضور بوہڑ کے درخت کے قریب پہنچ کر واپس ہوئے۔واپسی پر جو گفتگو ہورہی تھی اس کو ختم کرنے کے لئے چوک زیریں مسجد مبارک میں اُس مقام پر جہاں نواب صاحب کا مکان ہے۔کھڑے ہو کر سلسلہ کلام کو جاری رکھا۔خلیفہ رجب دین صاحب لاہوری مرحوم زیادہ بات چیت میں حصہ لیتے تھے اور وہی حضور کے قریب کھڑے تھے۔یہ مجھے یاد نہیں کہ کیا سلسلہ کلام تھا۔کیونکہ پیچھے سے گفتگو ہوتی آرہی تھی اور بہت حصہ خاکسارسن بھی نہ سکا۔سلسلہ کلام جب ختم ہوا تو حضور کی نظر فیض اثر خاکسار پر پڑ گئی اور بڑی شفقت سے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ آپ کی رخصت کتنے دن کی تھی۔خاکسار نے عرض کی کہ رخصت تو پندرہ روز کی تھی مگر اب