سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 73 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 73

سیرت المہدی 73 حصہ چہارم 1094 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں ایک دفعہ دارالامان گیا ہوا تھا۔گرمی کا موسم تھا۔نماز ظہر سے فارغ ہوکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔دس گیارہ اور احباب بھی حاضر تھے۔اُس وقت ایک زمیندار نے جو کہ قریباً پچاس سالہ عمر اور اپر پنجاب کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا۔بڑی عاجزی سے حضور کی طرف مخاطب ہو کر عرض کی کہ حضور میں کسی معاملہ میں ایک شخص کے یکصد روپیہ کا ضامن ہو گیا۔وہ بھاگ گیا ہے۔ہر چند گردو نواح میں تلاش کیا مگر ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا۔مجھ سے اس کی حاضری کا یا زرضمانت کا مطالبہ ہے۔ہر روز چپراسی آکر تنگ کرتے ہیں۔میں تنگ آکر نکل آیا ہوں۔وہ میرے گھر والوں کو تنگ کرتے ہوں گے۔مجھ کو معلوم ہوا تھا کہ حضور کی دعا خدا قبول فرماتا ہے۔اس لئے میں اتنی دور سے چل کر آیا ہوں کہ حضور دعا فرمائیں کہ خدا جلد سے جلد مجھ کو اس مشکل سے نجات دلائے۔حضور نے اس کا یہ دردناک حال سن کر مع حاضرین دعا فرمائی۔اس کے بعد حضور حسب معمول براستہ در بچہ اندرون خانہ تشریف لے گئے۔وہ شخص بھی نیچے اُتر گیا۔تھوڑی دیر کے بعد پھر دریچہ کھلا۔دیکھا تو حضرت صاحب کھڑے ہیں۔خاکسار بھی قریب ہی کھڑا تھا۔حضور کے دونوں ہاتھوں میں روپے تھے۔حضور نے مجھے بلا کر میرے دونوں ہاتھوں میں وہ روپے ڈال دیئے اور فرمایا کہ یہ سب اُس شخص کو دے دو جس نے ابھی دعا کروائی تھی۔میں نے عرض کیا کہ وہ تو مسجد سے چلا گیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ کسی آدمی کو بھیج کر اُسے بلوالو۔وہ ابھی ایسی جلدی میں کہاں گیا ہوگا۔یہ کہہ کر کھڑ کی بند کر لی۔خاکسار نے وہ سارا روپیہ حکیم فضل الدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے آگے ڈھیری کر دیا۔یہ دو اصحاب اور دو تین اور دوست بھی اس وقت مسجد میں موجود تھے۔حکیم صاحب نے اُسی وقت چند آدمی اس شخص کی تلاش میں دوڑائے۔اور مولوی صاحب روپیہ گن کر بیس بیس کی بیڑیاں لگانے لگے۔غالباً اس لئے کہ اُس شخص کو دیتے وقت آسانی ہو۔جب گن چکے تو ایک قہقہہ مار کر ہنستے ہوئے فرمایا کہ لو دیکھو لو کہ اس سائل نے تو سورو پیر کا ذکر کیا تھا۔لیکن حضرت صاحب جو روپیہ لائے ہیں وہ تو ایک سو بیس ہے۔اور مجھ کو فرمایا کہ کھڑکی کی کنڈی ہلا کر حضرت صاحب سے ذکر کر دو کہ ان میں ہمیں روپیہ زائد آگئے ہیں۔لیکن خاکسار سے مولوی صاحب کے اس ارشاد