سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 72
سیرت المہدی 72 حصہ چہارم آنے والی ہوتی ہے تو اس کا بار بار تکرار ہوتا ہے۔تھوڑی دیر بیٹھ کر جب آپ تشریف لے گئے تو پھر واپس آئے اور فرمایا کہ وہی سلسلہ پھر جاری ہو گیا۔اِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ إِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ “ ان دنوں میر ناصر نواب صاحب کا کنبہ پٹیالہ میں تھا۔اگلے دن پٹیالہ سے خط آیا۔کہ اسحاق کا انتقال ہو گیا اور دوسرے بیمار پڑے ہیں اور والدہ صاحبہ بھی قریب الموت ہیں۔یہ خط حضرت ام المومنین کی خدمت میں لکھا۔کہ صورت دیکھنی ہو تو جلد آ جاؤ۔حضور وہ خط لے کر ہمارے پاس آئے۔مولوی عبد الکریم صاحب ، محمد خان صاحب اور خاکسار ہم تینوں بیٹھے تھے۔جب حضور تشریف لائے۔فرمانے لگے کہ یہ خط ایسا آیا ہے اور حضرت اُم المومنین کے متعلق فرمایا کہ وہ سخت بیمار ہیں۔اگر ان کو دکھایا جائے تو ان کو سخت صدمہ ہوگا اور نہ دکھا ئیں تو یہ بھی ٹھیک نہیں۔ہم نے مشورہ دیا کہ حضور انہیں خط نہ دکھا ئیں۔نہ کوئی ذکر ان سے کریں۔کسی کو وہاں بھیجیں۔چنانچہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو اُسی وقت روانہ کر دیا گیا۔اور انہوں نے جا کر خط لکھا کہ سب سے پہلے مجھے اسحاق ملا اور گھر جا کر معلوم ہوا کہ سب خیریت ہے۔حافظ حامد علی صاحب پھر واپس آگئے۔اور سارا حال بیان کیا۔اس وقت معلوم ہوا کہ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ کا یہ مطلب تھا۔یہ واقعہ میرے سامنے کا ہے۔1093 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک شخص شملے میں رہتا تھا۔اور اس کی بہن احمدی تھی۔وہ شخص بڑا عیاش تھا۔اس کی بہن حاملہ تھی اور حالات سے وہ مجھتی تھی کہ اس دفعہ میں ایام حمل میں بچنے کی نہیں۔کیونکہ اسے تکلیف زیادہ تھی۔اس نے اپنے بھائی کو مجبور کیا کہ اسے قادیان پہنچا دے۔چنانچہ وہ اسے قادیان لے آیا ، اور کچھ دنوں کے بعد جب بچہ پیدا ہونے لگا تو پیروں کی طرف سے تھوڑا نکل کر اندر ہی مر گیا۔یہ حالت دیکھ کر حضرت ام المومنین روتی ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئیں۔اور فرمایا عورت مرنے والی ہے اور یہ حالت ہے۔آپ نے فرمایا ہم ابھی دعا کرتے ہیں۔اور آپ بیت الدعا میں تشریف لے گئے۔دو چار ہی منٹ کے بعد وہ بچہ خود بخو داندر کو جانا شروع ہو گیا۔اور پھر پلٹا کھا کر سر کی طرف سے باہر نکل آیا اور مرا ہوا تھا۔وہ عورت بچ گئی۔اور اس کا بھائی تو بہ کر کے اسی وقت احمدی ہو گیا۔اور بعد میں صوفی کے نام سے مشہور ہوا۔