سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 61 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 61

سیرت المہدی 61 حصہ چہارم مصافحہ کیا۔حضرت صاحب نے حاجی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا۔کہ حاجی صاحب! بہت تھوڑے لوگ ہیں جو صرف خدا کے لئے آتے ہیں۔دراصل دنیا عجائب پسند ہے۔اگر یہ شہرت ہو جائے کہ انبالہ میں ایک چار آنکھوں والا آدمی ہے۔تو اس کے دیکھنے کے لئے دنیا ٹوٹ پڑے۔ایسا ہی لفظ الہام سے دنیا اجنبی ہو چکی تھی۔اب جو وہ سنتے ہیں کہ ایک شخص کو خدا کی طرف سے الہام ہوتا ہے تو اُسی طرح تعجب سے وہ چاہتے ہیں کہ دیکھیں وہ آدمی جس کو الہام ہوتا ہے وہ کیسا ہے۔اس کے بعد گاڑی پٹیالہ کو روانہ ہوئی۔پٹیالہ اسٹیشن پر معلوم ہوا کہ حضرت صاحب جناب وزیر محمد حسین صاحب کی گاڑی میں سوار ہو کر جو اسی غرض سے خود گاڑی لے کر آئے تھے۔جانب شہر روانہ ہو گئے۔اور اُس کو ٹھی میں جو اسٹیشن سے دومیل کے فاصلہ پر جانب شرق پٹیالہ سے ) واقع ہے موجود ہیں۔جب خاکسار بھی پتہ لگا کر وہاں پہنچ گیا تو حضور کوٹھی کے بڑے کمرے میں تقریر فرما رہے تھے اور ہیں تمہیں مردماں کا مجمع تھا۔تقریر کا مفہوم ”ضرورت الہام معلوم ہوتا تھا۔کیونکہ خاکسار کے حاضر ہونے کے بعد جو الفاظ حضرت صاحب سے سنے تھے وہ یہ تھے۔عقل صرف ہستی باری تعالی کے بارہ میں ہونا چاہئے۔تک جاسکتی ہے۔لیکن یہ بات کہ ایسی ہستی ضرور ہے۔اس کی دسترس سے باہر ہے۔یہ صرف الہام ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ایسی ہستی ضرور موجود ہے۔تقریر والے کمرہ سے ملحقہ کمرہ کی طرف جو بند تھا۔اشارہ کر کے فرمایا کہ فرض کرو کہ اس کمرہ میں کسی شخص کے بند ہونے کا کوئی دعوی کرے اور کوئی دوسرا شخص اس کے شوق زیارت میں ہر روز بڑے الحاح اور عاجزی سے اس کو پکارے۔اگر سالہا سال بعد بکثرت لوگ ایسا ہی کریں اور کسی کو اُس شخص کی آواز تک نہ سنائی دے تو وہ سب تھک کر آخر اس کے ہونے سے انکاری ہو جائیں گے۔پس دوہر یہ تو عدم جہد و عدم معرفت کی وجہ سے دہر یہ ہیں۔لیکن یہ خدا کے پرستار الہام سے تشفی یاب نہ ہونے کی صورت میں ایک تجربہ کار دہر یہ ہوتے۔پس یقینی ایمان الہام کے بغیر میسر نہیں ہوسکتا۔یقینی ایمان کے لئے الہام از بس ضروری ہے۔اس تقریر کے ختم کرنے کے بعد حضور بسواری گاڑی وزیر صاحب سنور تشریف لے گئے۔1076 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنور سے شام کو پٹیالہ واپس تشریف لائے تو پھر وز یر محمد حسین صاحب کی کوٹھی پر