سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 57
سیرت المہدی 57 حصہ چہارم بڑھایا مگر خدام نے اُتار لیا۔حضور نے اُسی وقت دو نواڑی پلنگ منگوائے اور اُن پر ان کے بستر کروائے اور اُن سے پوچھا کہ آپ کیا کھائیں گے۔اور خود ہی فرمایا کیونکہ اس طرف چاول کھائے جاتے ہیں۔اور رات کو دودھ کے لئے پوچھا۔غرضیکہ اُن کی تمام ضروریات اپنے سامنے پیش فرما ئیں اور جب تک کھانا آیا و ہیں ٹھہرے رہے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ ایک شخص جو اتنی دور سے آتا ہے۔راستہ کی تکالیف اور صعوبتیں برداشت کرتا ہوا یہاں پہنچ کر سمجھتا ہے کہ اب میں منزل پر پہنچ گیا۔اگر یہاں آکر بھی اس کو وہی تکلیف ہو تو یقیناً اس کی دل شکنی ہوگی۔ہمارے دوستوں کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔اس کے بعد جب تک وہ مہمان ٹھہرے رہے۔حضور کا یہ معمول تھا کہ روزانہ ایک گھنٹہ کے قریب اُن کے پاس آکر بیٹھتے اور تقریر وغیرہ فرماتے۔جب وہ واپس ہوئے تو صبح کا وقت تھا۔حضور نے دو گلاس دودھ کے منگوائے اور انہیں فرمایا۔یہ پی لیجئے۔اور نہر تک انہیں چھوڑنے کے لئے ساتھ گئے۔راستہ میں گھڑی گھڑی اُن سے فرماتے رہے کہ آپ تو مسافر ہیں۔آپ یکے میں سوار ہو لیں۔مگر وہ سوار نہ ہوئے۔نہر پر پہنچ کر انہیں سوار کرا کے حضور واپس تشریف لائے۔1070 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سید ذریعہ تحریر بیان کیا۔کہ ایک دفعہ منشی اروڑ ا صاحب محمد خاں صاحب اور خاکسار قادیان سے رخصت ہونے لگے۔گرمیوں کا موسم تھا اور گرمی بہت سخت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت اور مصافحہ کے بعد منشی اروڑ ا صاحب نے کہا کہ حضور گرمی بہت ہے ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ پانی ہمارے اوپر اور نیچے ہو۔حضور نے فرمایا۔خدا قادر ہے۔میں نے عرض کی کہ حضور یہ دعا انہیں کے لئے فرمانا کہ ان کے اوپر نیچے پانی ہو۔قادیان سے یکہ میں سوار ہو کر ہم تینوں چلے تو خاکروبوں کے مکانات سے ذرا آگے نکلے تھے کہ یکدم بادل آکر سخت بارش شروع ہوگئی۔اس وقت سڑک کے گرد کھائیاں بہت گہری تھیں۔تھوڑی دور آگے جا کر یکہ الٹ گیا۔منشی اروڑا صاحب بدن کے بھاری تھے وہ نالی میں گر گئے اور محمد خاں صاحب اور میں کود پڑے۔منشی اروڑا صاحب کے اوپر نیچے پانی ہو گیا اور وہ ہنستے جاتے تھے۔1071 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا