سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 56 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 56

سیرت المہدی 56 56 حصہ چہارم میاں نظام الدین ! آپ اور ہم اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔اور یہ فرما کر مسجد کے صحن کے ساتھ جو کوٹھڑی ہے اس میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام الدین نے کوٹھڑی کے اندر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا۔اور کوئی اندر نہ گیا۔جولوگ قریب آکر بیٹھتے گئے تھے ان کے چہروں پر شرمندگی ظاہر تھی۔1068 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک صاحب مولوی عبد الرحیم ساکن میرٹھ قادیان آئے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعوعلیہ السلام سے تین دن تک اُن کی ملاقات نہ ہو سکی۔وجہ یہ تھی کہ جب حضور مسجد مبارک میں بیٹھتے تو عبد الرحیم صاحب تکلف اور آداب کے خیال سے لوگوں کو ہٹا کر اور گزر کر قریب جانا نا پسند کرتے تھے۔میری یہ عادت تھی کہ بہر حال و بہر کیف قریب پہنچ کر حضور کے پاس جا بیٹھتا تھا۔عبدالرحیم صاحب نے مجھ سے ظاہر کیا کہ تین دن سے ملاقات نہیں ہوسکی۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب سے یہ بات عرض کی۔حضور ہنس کر فرمانے لگے کہ کیا یہ آپ سے سبق نہیں سیکھتے۔اور پھر انہیں فرمایا کہ آ جائیے۔چنانچہ ان کی ملاقات ہوگئی۔1069 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعه دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے اور مہمان خانہ میں آکر انہوں نے خادمان مہمان خانہ سے کہا کہ ہمارے بستر اُتارے جائیں اور سامان لایا جائے۔چارپائی بچھائی جائے۔خادمان نے کہا کہ آپ خود اپنا اسباب اتروا ئیں۔چار پائیاں بھی مل جائیں گی۔دونوں مہمان اس بات پر رنجیدہ ہو گئے اور فورا یکہ میں سوار ہوکر واپس روانہ ہو گئے۔میں نے مولوی عبد الکریم صاحب سے یہ ذکر کیا تو مولوی صاحب فرمانے لگے۔جانے بھی دو ایسے جلد بازوں کو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس واقعہ کا علم ہوا تو نہایت جلدی سے ایسی حالت میں کہ جوتا پہنا مشکل ہو گیا۔حضور ان کے پیچھے نہایت تیز قدم چل پڑے۔چند خدام بھی ہمراہ تھے۔میں بھی ساتھ تھا۔نہر کے قریب پہنچ کر اُن کا یکہ مل گیا۔اور حضور کو آتا دیکھ کر وہ یکہ سے اتر پڑے اور حضور نے انہیں واپس چلنے کے لئے فرمایا کہ آپ کے واپس ہونے کا مجھے بہت درد پہنچا۔چنانچہ وہ واپس آئے۔حضور نے یکہ میں سوار ہونے کے لئے انہیں فرمایا کہ میں ساتھ ساتھ چلتا ہوں مگر وہ شرمندہ تھے اور وہ سوار نہ ہوئے۔اس کے بعد مہمان خانہ میں پہنچے۔حضور نے خود اُن کے بستر اُتارنے کے لئے ہاتھ