سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 55
سیرت المہدی 55 حصہ چہارم ہیں۔اس کے صحن اور میرے مکان کے صحن میں صرف ایک دروازہ حائل تھا۔گویا اس وقت نقشہ یہ تھا۔شهرمانی سم صحت معن من الله ه مبارک کمرہ نمبرا، نمبر ۲، نمبر ۳ میں میری رہائش تھی۔نمبرہ میں مولوی محمد احسن صاحب رہا کرتے تھے۔نمبر ۵ میرا صحن تھا، نمبر ۶ حضرت صاحب کا صحن تھا۔اور نمبرے آپ کا رہائشی کمرہ تھا اور نمبر ۸ بیت الفکر تھا۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کوئی بات کرتے ہمیں سنائی دیتی۔جب بھی کوئی بات ہو یا عورتوں میں تقریر ہو۔رات دن میں جب بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ذکر آتا تو آپ کے منہ سے یہی نکلتا تھا ہمارے رسول کریم ، ہمارے نبی کریم 1067 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کے بعد مسجد مبارک کی دوسری چھت پر مع چند احباب کھانا کھانے کے لئے تشریف فرما تھے۔ایک احمدی میاں نظام الدین ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی دریدہ تھے۔حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔اتنے میں کئی دیگر اشخاص خصوصاً وہ لوگ جو بعد میں لاہوری کہلائے ، آتے گئے اور حضور کے قریب بیٹھتے گئے۔جس کی وجہ سے میاں نظام الدین کو پرے ہٹنا پڑتا رہا۔حتی کہ وہ جوتیوں کی جگہ تک پہنچ گیا۔اتنے میں کھانا آیا۔تو حضور نے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھا لیں اور میاں نظام الدین کو مخاطب کر کے فرمایا۔آؤ