سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 54
سیرت المہدی 54 حصہ چہارم جاؤ۔میں میر عباس علی کی قیام گاہ پر گیا۔آٹھ دس آدمی فرش پر بیٹھے تھے اور میر صاحب چار پائی پر۔ایک تخت بھی وہاں تھا۔دوروں میں پوست بھیگے ہوئے تھے۔پیراں دتا کو دیکھ کر میر عباس علی نے اُسے بے تکلفانہ پکارا۔اوپیراں دتا ، او پیراں دتا ، اور مجھ سے السلام علیکم کر کے ہنستے ہوئے ، آئیے آئے کہہ کر بیٹھنے کو کہا۔پیراں دتا مجھ سے کہنے لگا۔میں پہلے سمجھالوں۔میں نے کہا سمجھا لے۔پیراں دتا کہنے لگا۔میر صاحب! میں تمہیں دونوں وقت کھانا پہنچاتا تھایانہیں؟اور تمہیں بھی کبھی میں پسے بھی دیا کرتاتھا انہیں میر صاحب اب بڑے آدمی دور دور سے روٹی کھانے والے آتے ہیں۔اب جو تم روٹیوں کی خاطر ادھر ادھر پھرتے ہو یہ وقت اچھا ہے یا وہ جب گھر بیٹھے میں تمہیں روٹی دے جایا کرتا تھا۔اب تم میرے ساتھ چلو۔میں تمہیں روٹی دونوں وقت دے جایا کروں گا۔میر عباس علی ہنستے رہے۔پھر میں نے اُن سے کہا کہ آپ کیوں برگشتہ ہو گئے۔وہ کہنے لگا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ یہ جسم آسمان پر نہیں جاسکتا۔میں نے اپنے پیر کو خود دیکھا ہے ( مولوی غوث علی پانی پتی ان کے پیر تھے ) کہ ایک دفعہ انہوں نے الا اللہ کا ونعرہ مارا تو زمین شق ہوگئی اور وہ اس میں سما گئے۔میں نے کہا کہ اوپر تو پھر بھی نہ گئے۔اور وہاں قرآن شریف رکھا تھا۔میں نے اُٹھا کر میر صاحب کے سر پر رکھ دیا کہ آپ خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتائیں کہ آپ نے یہ واقعہ خود دیکھا ہے۔وہ کہنے لگا کہ ہمارے پیر نے جب یہ بیان کیا کہ انہوں نے ایک دفعہ ایسا کیا۔اور ہم انہیں سچا سمجھتے ہیں۔تو یہ م دید ماجرا ہی ہوا۔غرضیکہ جہاں تک ہوسکا۔میں نے اُن کو سمجھایا۔مگر اس وقت ان کی حالت بہت بگڑ چکی تھی۔وہ اقراری نہ ہوئے۔1065 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ پہلے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جاتے تو میرا انتظار فرماتے۔بعض دفعہ بہت دیر بھی ہو جاتی مگر جب سے مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح مجھ سے ہوا تو آپ نے پھر میرا انتظار نہیں کیا۔( یا تو حیا فرماتے۔اور اس کی وجہ سے ایسا نہیں کیا یا مجھے فرزندی میں لینے کے بعد فرزند سمجھ کر انتظار نہیں کیا) 1066 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس مکان میں رہا کرتے تھے اب اس میں حضرت اماں جان علیہا السلام رہتی