سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 45 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 45

سیرت المہدی 45 حصہ چہارم جہاں محمد اسماعیل صاحب جلد ساز کا مکان ہے اور پھر مفتی محمد صادق صاحب کے مکان کے پاس احمدیہ چوک کی طرف مڑتا ہے۔جس کے شرقی طرف مدرسہ احمدیہ ہے اور غربی طرف دکا نہیں ہیں اس تمام راستہ میں ایک پہیہ خشکی میں اور دوسرا پانی میں یعنی جو ہڑ میں سے گزرتا تھا اور یہ حد آبادی تھی۔اور میرے مکان کے آگے ایک ویرانہ تھا۔اور گلی چھت کر بنا ہوا کمرہ میری فرودگاہ تھی اور یہ ادھر حد آبادی تھی۔دسمبر ۱۸۹۲ء میں میں قادیان گیا تو مدرسہ احمدیہ۔مہمان خانہ اور حضرت خلیفہ اُسیح اول کے مکان کی بنیادیں رکھی ہوئی تھیں۔اور یہ ایک لمبا سا چبوتر ابنا ہوا تھا۔اسی پر جلسہ ہوا تھا۔اور کسی وقت گول کمرہ کے سامنے جلسہ ہوتا تھا۔یہ چبوترہ ڈھاب میں بھرتی ڈال کر بنایا گیا تھا) اور اس کے بعد جتنے مکان بنے ہیں ڈھاب میں بھرتی ڈال کر بنائے گئے ہیں۔1047 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ غالباً پہلی یا دوسری دفعہ میرے قادیان آنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کے بعد میرے ہاں تشریف لائے تو آپ موم بتی لے کر اس کی روشنی میں آئے۔میرے ملازم صفدر علی نے چاہا کہ بتی کو بجھا دیا جائے تا کہ بے فائدہ نہ جلتی رہی۔اس پر آپ نے فرمایا۔جلنے دو روشنی کی کمی ہے۔دنیا میں تاریکی تو بہت ہے ( قریب قریب الفاظ یہ تھے ) 1048 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ آتھم کے واقعہ کے چھ ماہ بعد میں قادیان گیا تو وہاں پر شمس الدین صاحب سیکرٹری انجمن حمایت اسلام بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔وہ احمدی نہ تھے۔قادیان سے میں اور شمس الدین صاحب امرتسر آئے۔میاں قطب الدین صاحب امرتسری جو بہت مخلص آدمی تھے۔اُن سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک عیسائی ہے اس کے پاس عبد اللہ آتھم کی تحریر موجود ہے جس میں آتھم نے اقرار کیا ہے کہ اس نے ضرور رجوع بحق کیا ہے اور وہ خائف رہا اور وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہر گز نہیں جو مرزا صاحب کی ہتک کرتے ہیں۔آپ کو بزرگ جانتا ہے۔یہ سن کر ہم تینوں اس عیسائی کے پاس گئے۔اور اُس سے وہ تحریر مانگی۔اس نے دور سے دکھائی اور پڑھ کر سنائی۔اور یہ کہا کہ یہ خاص آتھم کے قلم کی تحریر ہے جو چھپوانے کی غرض سے اس نے بھیجی تھی مگر