سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 41
سیرت المہدی 41 حصہ چہارم گرہن کے دن نماز میں موجود تھا۔مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے نماز پڑھائی تھی۔اور نماز میں شریک ہونے والے بے حد رو رہے تھے۔اس رمضان میں یہ حالت تھی کہ صبح دو بجے سے چوک احمدیہ میں چہل پہل ہو جاتی۔اکثر گھروں میں اور بعض مسجد مبارک میں آموجود ہوتے۔جہاں تہجد کی نماز ہوتی۔سحری کھائی جاتی اور اول وقت صبح کی نماز ہوتی۔اس کے بعد کچھ عرصہ تلاوت قرآن شریف ہوتی اور کوئی آٹھ بجے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو تشریف لے جاتے۔سب خدام ساتھ ہوتے۔یہ سلسلہ کوئی گیارہ بارہ بجے ختم ہوتا۔اس کے بعد ظہر کی اذان ہوتی اور ایک بجے سے پہلے نماز ظہر ختم ہو جاتی اور پھر نماز عصر بھی اپنے اول وقت میں پڑھی جاتی۔بس عصر اور مغرب کے درمیان فرصت کا وقت ملتا تھا۔مغرب کے بعد کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر آٹھ ساڑھے آٹھ بجے نماز عشاء ختم ہو جاتی اور ایسا ہو کا عالم ہوتا کہ گویا کوئی آباد نہیں۔مگر دو بجے سب بیدار ہوتے اور چہل پہل ہو جاتی۔1043 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ امرتسر میں جب آتھم کے ساتھ مباحثہ قرار پایا تو ہیں ہیں یا چھپیں پچھپیں آدمی فریقین کے شامل ہوتے تھے۔ہماری طرف سے علاوہ غیر احمدیوں کے مولوی عبد الکریم صاحب ، سید محمد احسن صاحب بھی شامل ہوتے تھے۔اور ایک شخص اللہ دیا لدھیانوی جلد ساز تھا جس کو توریت وانجیل خوب یاد تھی اور کرنیل الطاف علی خاں صاحب رئیس کپور تھلہ عیسائیوں کی طرف بیٹھا کرتے تھے۔ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ایک طرف عبد اللہ آتھم بیٹھتے تھے۔دونوں فریق کے درمیان خلیفہ نور الدین صاحب جمونی اور خاکسار مباحثہ لکھنے والے بیٹھا کرتے تھے۔اور دو کس عیسائیوں میں سے اسی طرح لکھنے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔بحث تقریری ہوتی تھی اور ہم لکھتے جاتے تھے اور عیسائیوں کے آدمی بھی لکھتے تھے۔اور بعد میں تحریروں کا مقابلہ کر لیتے تھے۔حضرت صاحب اختصار کے طور پر غ سے مراد غلام احمد اور ع سے مراد عبداللہ کھاتے تھے۔آتھم بہت ادب سے پیش آتا تھا۔جب عیسائیوں کے لکھنے والے زیادہ نہ لکھ سکتے۔آٹھم خاکسار کو مخاطب کر کے کہا کرتا کہ عیسائی ہمارے لکھنے والے ٹو ہیں۔ان کی کمریں لگی ہوئی ہیں۔انہیں بھی ساتھ لینا