سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 39

سیرت المہدی 39 حصہ چہارم سنتے رہے۔پھر مجھے ایک اعتراض یاد آ گیا کہ آیت و اذ قال ربك للملئکۃ انی جاعل فی الارض خليفة (البقرة: ۳۱) پر یہ اعتراض ہے کہ جو مشورہ کا محتاج ہے۔وہ خدائی کے لائق نہیں۔قالوا ا تجعل فيها من يفسد فيها۔اس سے معلوم ہوا کہ اس کا علم بھی کام نہیں۔کیونکہ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ آئندہ فساد اور خون ریزی کرے گا۔و نحن نسبح بحمدک و نقدس لک۔اُس سے معلوم ہوا کہ وہ پاکوں سے دشمنی اور ناپاکوں سے پیار کرتا ہے۔کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو اس خلافت کے لئے پیش کیا تھا۔قال انی اعلم مالا تعلمون۔بھلا یہ بھی کوئی جواب ہے جس سے بجز ظاہر ہوتا ہے۔پھر یہ کہا کہ علم آدم الاسماء کلھا۔ایک آدمی کو الگ لے جا کر کچھ باتیں چپکے سے سمجھا دیں اور پھر کہا کہ تم بتاؤ اگر سچے ہو۔اس میں فریب پایا جاتا ہے۔جب میں نے یہ اعتراضات سنائے تو حضور کو جوش آگیا اور فوراً آپ بیٹھ گئے اور بڑے زور کی تقریر جو ابا کی اور بہت سے لوگ بھی آگئے۔اور دورہ ہٹ گیا۔بہت لمبی تقریر فرمائی کہ کہیں آدم کا خونریزی وغیرہ کرنا ثابت نہیں۔وغیرہ 1040 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اور عبد الحکیم مرتد جس زمانے میں لاہور پڑھتے تھے۔وہاں پر ایک شخص جو بر ہمو سماج کا سیکرٹری اور ایم اے تھا، آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں تھے۔اُس نے آکر کہا کہ تقدیر کے مسئلہ کو میں نے ایسا سمجھا ہوا ہے کہ شاید کسی اور نے نہ سمجھا ہو۔وہ دلائل میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں اس پر حضور نے خود ہی تقدیر پر تقریر شروع فرما دی اور یہ تقریر مسلسل دو گھنٹے جاری رہی۔حضرت مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالحکیم صاحب بھی اس میں موجود تھے اور نواب فتح علی خان صاحب قزلباش بھی موجود تھے ، تقریر کے ختم ہونے پر جب سب چلے گئے تو نواب صاحب بیٹھے رہے اور نواب صاحب نے کہا کہ آپ تو اسلام کی روح بیان فرماتے ہیں اور اسلام کی صداقت آفتاب کی طرح سامنے نظر آتی ہے۔وہ لوگ بڑے ظالم ہیں جو آپ کے متعلق سخت کلامی کرتے ہیں۔ظالم کا لفظ سن کر حضور نے شیعہ مذہب کی تردید شروع کر دی۔گویا ثابت کیا کہ شیعہ ظلم کرتے ہیں جو صحابہ کا فیض یافتہ صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ