سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 430
سیرت المہدی 430 نے کھڑے ہو کر ایک خطبہ پڑھا جس میں پھر انہی باتوں کو دہراتے ہوئے فرمایا کہ میں نے اس فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہوگی؟ اسی لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جائے۔حضرت صاحب کے اقارب میں اس وقت تین آدمی موجود ہیں اول میاں محمود احمد وہ میرا بھائی بھی ہے میرا بیٹا بھی اس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔:۔قرابت کے لحاظ سے میر ناصر نواب صاحب ہمارے اور حضرت کے ادب کا مقام ہیں ۳:۔تیسرے قریبی نواب محمد علی خان صاحب ہیں۔۔۔اس وقت مردوں۔بچوں اور عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وحدت کے نیچے ہوں۔اس وحدت کے لئے ان بزرگوں میں سے کسی کی بیعت کرلو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔میں خود ضعیف ہوں۔بیمار رہتا ہوں پھر طبیعت مناسب نہیں۔اتنا بڑا کام آسان پس میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن عمائد کا نام لیا ہے ان میں سے کوئی منتخب کر لو میں تمہارے ساتھ بیعت کرنے کو تیار ہوں۔لیکن جبکہ بلا میری خواہش کے یہ بار میرے گلے میں ڈالا جاتا ہے اور دوست مجھے مجبور کرتے ہیں تو اس کو خدا کی طرف سے سمجھ کر قبول کرتا ہوں۔اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت پک جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشارہ فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔سو اس کے بعد میری ساری عزت اور سارا خیال انہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے۔الغرض حضرت مولانا نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نہایت ہی پُر درد۔پُر معرفت اور رقت آمیز خطبہ کے بعد جماعت سے سیدنا حضرت احمد علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پر بیعت اطاعت لی اور اس طرح گویا خدا کے نبی و رسول سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی موجودگی ہی میں جماعت سلک وحدت میں پروئی گئی۔بعض دوست آج بھی اپنے شہروں سے آئے اور شام تک بلکہ متواتر کئی روز تک آتے ہی رہے۔جوں جوں ان کو اطلاع ملتی گئی دیوانہ وار مرکز کی طرف دوڑتے بھاگتے جمع