سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 431
431 سیرت المہدی ہوتے رہے۔اور یہ سلسلہ کئی روز تک بہت سرگرمی سے جاری رہا۔حضرت مولوی صاحب کے خطبہ کے بعد بیعت خلافت پہلے مردوں میں ہوئی پھر مستورات میں۔بیعت کے بعد کچھ انتظار کیا گیا تا کہ بیرون جات سے آنے والے دوست بھی نماز جنازہ میں شریک ہو سکیں۔چنانچہ نماز جنازہ قریبا عصر کے وقت پڑھی گئی جس میں کثرت سے لوگ شریک ہوئے۔نماز جنازہ کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر ایک تقریر فرمائی اور جماعت کو نصائح فرما ئیں۔اس تقریر کے بعد نمازیں ادا کی گئیں۔نماز جنازہ کے بعد سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جسد اطہر پھر باغ والے مکان میں پہنچا دیا گیا جہاں حضور کی آخری زیارت کا موقعہ حضور کے غلاموں کو دیا گیا۔زیارت کے لئے ایسا انتظام کیا گیا کہ ایک طرف سے لوگ آتے اور دوسری طرف کو نکلتے جاتے رہے۔زیارت کا سلسلہ بہت لمبا ہو گیا اور وقت تنگ ہوتا دیکھ کر کچھ جلدی کی گئی اور اس طرح شام سے پہلے پہلے حضرت کا جسم مبارک خدا کے مقرر کردہ قطعہ زمین میں رکھ کر اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا گیا۔پہلے خیال تھا کہ حضور پر نور کا جسد اطہر اسی تابوت میں رکھ کر قبر میں رکھا جائے جس میں لاہور سے لایا گیا تھا مگر بعد میں یہی فیصلہ ہوا کہ بغیر تابوت ہی الہی حفاظت میں دیا جاوے۔چونکہ پہلے خیال کی وجہ سے قبر میں لحد تیار نہ کرائی گئی تھی لہذا حضور پر نور کا جسم مبارک قبر کے درمیان رکھ کر اوپر سے اینٹوں کی ڈاٹ لگا کر پھر مٹی ڈال دی گئی۔قبر کی درستی کے بعد ایک لمبی دعا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجمع سمیت کی اور شام کے وقت اس فرض اور خدمت سے فارغ ہو کر دعائیں کرتے شہر کو آئے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ نوٹ: تحریر ہذا ۳۸/۳۹ء کی ہے جو صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمه ر به قمرالانبیاء کی تحریک پر خاکسار عبدالرحمن قادیانی نے لکھی۔☆☆☆