سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 36
سیرت المہدی 36 حصہ چہارم گئے؟ اور جب ہمیں انعام ملنا نہیں تو یہ دعا عبث ہے۔مگر اصل واقعہ یہ ہے کہ انعامات کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔۱۸۹۳ء میں میں نے خاص طور پر سے شیعیت کی بابت تحقیقات کی اور شیعیت کو ترک کر دیا۔1032 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ میں قیام پذیر تھے میں اور محمد خان مرحوم ڈاکٹر صادق علی صاحب کو لے کر لدھیانہ گئے۔(ڈاکٹر صاحب کپورتھلہ کے رئیس اور علماء میں سے شمار ہوتے تھے ) کچھ عرصہ کے بعد حضور مہندی لگوانے لگے۔اس وقت ایک آریہ آ گیا۔جو ایم۔اے تھا۔اس نے کوئی اعتراض اسلام پر کیا۔حضرت صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے فرمایا۔آپ ان سے ذرا گفتگو کریں تو میں مہندی لگوالوں۔ڈاکٹر صاحب جواب دینے لگے۔مگر اُس آریہ نے جو جوابی تقریر کی تو ڈاکٹر صاحب خاموش ہو گئے۔حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر فوراً مہندی لگوانی چھوڑ دی اور اسے جواب دینا شروع کیا اور وہی تقریر کی جو ڈاکٹر صاحب نے کی تھی مگر اس تقریر کو ایسے رنگ میں بیان فرمایا کہ وہ آریہ حضور کے آگے سجدہ میں گر پڑا۔حضور نے ہاتھ سے اُسے اٹھایا۔پھر وہ دونوں ہاتھوں سے سلام کر کے پچھلے پیروں ہٹتا ہوا واپس چلا گیا۔پھر شام کے چار پانچ بجے ہوں گے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں تخلیہ چاہتا ہوں میں نے حضور سے عرض کی۔چنانچہ ڈاکٹر صاحب حضرت صاحب کے پاس تنہائی میں چلے گئے اور میں اور مولوی عبد اللہ سنوری اور محمد خان صاحب ایک کوٹھڑی میں چلے گئے۔بعد میں ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا کہ میں نے بہت اصرار کیا کہ مجھے بیعت میں لے لیں مگر آپ نے فرمایا۔آپ جلدی نہ کریں۔سوچ سمجھ لیں۔دو دن رہ کر ہم واپس آگئے۔1033 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کسی شخص نے بیعت کرنی چاہی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی بیعت نہ لی اور انکار کر دیا۔1034 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک شخص نے ایک کتاب لکھی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور وہ کتاب پیش کی۔حضور نے ہاتھ