سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 35
سیرت المہدی 35 حصہ چہارم کرتار پور کے اسٹیشن پر ہم نے حضرت صاحب کے ساتھ ظہر وعصر کی نماز جمع کی۔نماز کے بعد میں نے عرض کی کہ کس قدر مسافت پر نماز جمع کر سکتے ہیں اور قصر کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔انسان کی حالت کے اوپر یہ بات ہے۔ایک شخص ناطاقت اور ضعیف العمر ہوتو وہ پانچ چھ میل پر بھی قصر کر سکتا ہے اور مثال دی کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مزدلفہ میں نماز قصر کی۔حالانکہ وہ مکہ شریف سے قریب جگہ ہے۔1030 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری نظر سے پہلے موٹا اشتہار بابت براہین احمدیہ ۱۸۸۵ء میں گزرا۔مگر کوئی التفات پیدا نہ ہوا۔۱۸۸۷-۸۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شہرہ سنتا رہا۔۱۸۹۰ء میں آپ نے مولوی عبداللہ صاحب فخری کی تحریک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کی استدعا کی۔اس طرح خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔غالب ستمبر ۱۸۹۰ء میں میں بمقام لدھیانہ حضرت صاحب سے ملا اور چند معمولی باتیں ہوئیں۔وہاں سے واپسی پر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا کہ میں تفضیلی شیعہ ہوں۔یعنی حضرت علی کو دوسرے خلفاء پر فضیلت دیتا ہوں۔کیا آپ ایسی حالت میں میری بیعت لے سکتے ہیں یا نہیں؟ آپ نے لکھا کہ ہاں ایسی حالت میں آپ بیعت کر سکتے ہیں۔باقی اگر ہم ان خدمات کی قدر نہ کریں جو خلفائے راشدین نے کیں تو ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ قرآن وہی قرآن ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا کیونکہ انہی کے ذریعہ قرآن و اسلام، حدیث و اعمال ہم تک پہنچتے ہیں۔چنانچہ میں نے غالباً ستمبر یا اکتو بر۱۸۹۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرلی اور بعد بیعت تین سال تک شیعہ کہلا تارہا۔1031 بسم الله الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ابتدائے خط و کتابت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے ایک خط میں لکھا تھا کہ میں شیعہ ہوں اور شیعوں کے ہاں ولایت ختم ہوگئی ہے۔اس لئے جب ہم کسی کو ولی نہیں مانتے تو بیعت کس طرح کر سکتے ہیں؟ آپ نے لکھا ”ہم جو ہر نماز میں اهدنا الصراط المستقیم ، صراط الذین انعمت عليهم كی دعا مانگتے ہیں۔اس کا کیا فائدہ ہے؟ کیونکہ مے تو پی گئے اب تو درد رہ گیا۔پھر کیا ہم مٹی کھانے کے لئے رہ