سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 407
سیرت المہدی 407 حضور نے سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک جائز خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کے اصرار کو بھی آخر کار شرف قبولیت بخش کر یہ سفر اختیار کیا تھا کیونکہ حضور کے اخلاق حمیدہ میں اپنے اہل بیت کی مرضی و خواہش کو پورا کرنے اور ان کی بات مان لینے کا پہلو اتنا نمایاں وواضح اور زبان زد خاص و عام تھا کہ جاہل واکھڑ خادمات کے دل و دماغ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے اور وہ بے ساختہ پکار اٹھتیں کہ مر جا بیوی دی بڑی من دا اے یہ امر ثبوت ہے اس بات کا کہ حضور کو اخلاق فاضلہ میں انتہائی کمال اور بالکل امتیازی شرف حاصل تھا۔اور اس میں بھی دنیا کے لئے عورتوں سے حسن سلوک، حسن معاشرت، ان کی عزت و احترام اور محبت و اکرام کے عملی سبق کے علاوہ ان کے جائز حقوق اور آزادی مناسب کا عملی سبق دے کر ایک اسوہ حسنہ قائم کرنا مقصود تھا کیونکہ حضور پر نور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کمال اخلاق کا اس لحاظ سے بھی کامل اور اکمل واتم نمونہ واُسوہ تھے۔مگر اس میں بھی کلام نہیں کہ حضور نے رضاء بالقضاء اور مَا تَشَاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَّشَاءَ اللَّهُ کا بھی اعلیٰ ترین اسوه و نمونہ پیش کر کے دنیا جہاں پر اپنے آخری عمل سے بھی ثابت کر دیا کہ واقعی حضور اپنے خدا میں فنا اور اسی کی رضاء کے طالب تھے۔خدا کے برگزیدہ نبی ورسول سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اپنی زندگی کے آخری دو تین روز ایک ایسی اہم اور مہتم بالشان تصنیف میں مصروف رہے جس میں نسل انسانی کے لئے بے نظیر اور فقید المثال خدمت کا مواد اور امن عالم کے قیام کی تجاویز درج ہیں۔جس کا نام اس شہزادہ صلح و آشتی اور امن و سلامتی نے مضمون کی مناسبت اور وقت کی ضرورت کے لحاظ سے ”پیغام صلح تجویز فرمایا۔کتابت و طباعت کی خدمات کا اعزاز ہمارے محترم بزرگ میر مہدی حسین صاحب کے حصہ آیا اور حضور نے بھری مجلس میں میر صاحب موصوف کی خدمات متعلقہ ، طباعت چشمہ معرفت کا ذکر خیر فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ کام بھی ہم میر مہدی حسین کے سپرد کرتے ہیں“ چنانچہ ایک کاپی ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء کو تیار کرا کر میر صاحب موصوف بر فاقت مکر می شیخ رحمت اللہ صاحب و حکیم