سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 402
سیرت المہدی 402 رہے تھے کیونکہ خطبہ الہامیہ کے نزول کے دوران میں تو مشکل لفظ جب سمجھ میں نہ آتا۔ہم لوگ لکھنے میں پیچھے رہ جاتے یا بعض جگہ الف یا ع ق پاک۔زیاد یاض۔ظا اورث۔س اورص وغیرہ کا امتیاز نہ کر سکتے تو حضور سے دریافت کرنا پڑتا تھا جس کے بتانے کے لئے حضور گویا نیند سے بیدار ہو کر یا کسی روحانی عالم سے واپس آ کر بتاتے تھے اور دوران نزول میں کئی مرتبہ ایسا ہوا تھا۔مگر آج کی محویت اور ر بودگی متواتر کم و بیش ایک گھنٹہ جاری رہی اور واپس مکان پر آ کر ہی حضور نے آنکھ کھولی تھی۔یہ واقعہ نہ صرف میرا ہی چشم دید ہے بلکہ خاندان کی بیگمات اور ہمرکاب مردوں کے علاوہ مجھے اچھی طرح سے ایک اور ایک دو کی طرح یاد ہے کہ جب حضور کی گاڑی لارنس گارڈنز اور لاٹ صاحب کی کوٹھی سے کچھ آگے جانب غرب بڑھی تھی تو اس موقعہ پر دو یا تین احمدی دوست لاہور کے سیر کرتے ہوئے وہاں ملے۔جنہوں نے السلام علیکم کہی اور حضور کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ کر تعجب کا اظہار کیا اور اشاروں سے دریافت حال کیا تھا۔گویا ان دوستوں نے بھی حضور کی اس حالت تبتل و انقطاع کو خلاف معمول سمجھا تھا۔اور پھر مجھے یہ بھی خوب یاد ہے کہ دوسرے دن وصال کے بعد انہوں نے یا ان میں سے بعض نے آج کے چشم دید واقعہ کا ذکر کر کے بیان کیا تھا کہ ” ہم نے تو کل ہی حضور کی حالت سے اندازہ کر لیا تھا کہ حضور اس عالم میں موجود نہیں ہیں۔“ مگر افسوس کہ میں ان دوستوں کے نام یاد نہیں رکھ سکا۔یہ یقین ہے کہ تھے وہ مقامی دوست ہی۔میں نے اوپر ذکر کیا ہے کہ ابتداء حضور خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں رہتے تھے اور کم و بیش قیام لاہور کا نصف عرصہ حضور وہیں مقیم رہے۔اس کے بعد اس مکان کو چھوڑ کر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے بالائی حصہ میں تشریف لے گئے اور آخری دن تک وہیں رہے۔اس ہجرت کی بڑی وجہ علاوہ بعض اور وجوہات کے یہ تھی کہ لاہور پہنچنے کے بعد حضور کو الہام ہوا ” اَلرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيل“ حضور پُرنور کی عادت وسنت تھی کہ خواب اور الہامات کو حتی الوسع ظاہری رنگ میں پورا کرنے کی کوشش فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضور ا کثر صدقات ، خیرات اور قربانیاں ادا کرتے رہتے تھے بلکہ بعض اوقات تو بعض خدام اور بچوں تک کی خوابوں کو پورا کرتے اور قربانیاں کروایا کرتے۔اسی طرح اس