سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 398 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 398

سیرت المهدی 398 مہمانوں کو بھیج دیا اور خود دو گھونٹ پانی پر ہی کفایت فرمائی۔کسی مہمان کو چار پائی نہ ملی تو اپنی چار پائی بھیج دی یا فوراً تیار کرا دی اور نیا بستر بنوا کر بھیج دیا۔زبان طعن دراز کرنا آسان ہے مگر کچھ کر کے دکھا نا مشکل۔مدتوں ہم اور ایسے معترض اکٹھے رہے جس کی وجہ سے ان کے سلوک و اخلاق اور حسن و احسان کی داستانیں معلوم۔دور کیا جانا۔لاہور ہی کی بات کبھی بھولنے میں نہیں آتی جب مہمانوں کو دستر خوان پر بیٹھا کر اور کھانا سامنے رکھ کر ساتھ ہی یہ پیغام بار بارد ہرایا جا تا تھا کہ پیٹ کے چار حصے کرو۔کھانے کا، پانی کا ، ہوا کا ، اور ذکر الہی کا۔کاش ان بدقسمتوں کو مائیں نہ جنتیں۔تنگ ہو کر مجبوراً آخر بعض خدام ہمرکاب نے پہلے اس قسم کی باتیں حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیں چنانچہ آپ نے فوراً اپنے شاگردوں کے لئے تو کھانے کا الگ انتظام کر دیا۔مکرمی حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی خدا کے فضل سے زندہ سلامت ہیں وہ اس بات کے شاہد ہیں کہ دو یا چار بوری آٹا فور خریدنے کا حضرت مولوی صاحب نے حکم دیا۔یا خرید واکر ان کے سپر د کر دیں اور اس طرح پہلے صاحب ممدوح کے شاگردوں کے کھانے کا بوجھ جماعت لاہور کے کندھوں سے اتر گیا اور پھر جلد ہی یہ بات سید نا حضرت اقدس تک پہنچ گئی تو حضور پر نور نے تمام مہمانوں کے کھانے کے لئے اپنے خرچ سے انتظام کئے جانے کا ارشاد فر ما دیا جو آخری دن تک جاری رہا۔افترا کرنا اور جھوٹ بولنا لعنتیوں کا کام ہے میں اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم سے لکھتا ہوں کہ اوپر کا واقعہ میں نے جیسے سنا اور جس طرح دیکھا بعینہ اسی طرح لکھا ہے۔الفاظ ممکن ہے وہ نہ ہوں یا آگے پیچھے ہو گئے ہوں مگر کوشش میں نے حتی الوسع یہی کی ہے کہ وہی لکھوں۔مفہوم یقینا یقیناً وہی ہے اور یہ واقعہ ایک گھنٹہ سیر کے وقت کی تعیین کا بھی بالکل صحیح اور یقینی ہے اور میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے پوری بصیرت اور یقین سے لکھا ہے جس پر میں غلیظ سے غلیظ قسم کے لئے بھی تیار ہوں۔مجھے کسی سے ذاتی طور پر رنج، بغض یا عناد نہیں۔سلسلہ کی ایک امانت جو اکتیس سال سے میرے دل و دماغ میں محفوظ تھی ، ادا کی ہے اس کے سوا اور کوئی غرض نہیں۔اسی سلسلہ میں اس امر کا لکھ دینا بھی بے محل نہ ہو گا کہ جس زمانہ کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے اس سے تین چار ماہ قبل ہی یعنی جنوری ۱۹۰۸ء کے اواخر میں میں ان زخموں سے اچھا ہو کر جو راجپوتانہ سے میری