سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 397
سیرت المہدی 397 قوم کے روپیہ سے بیوی جی کے زیور بنتے ہیں قوم کا روپیہ جو لنگر خانہ کے نام سے حضرت صاحب کے نام براہ راست آتا ہے اس کا کوئی حساب کتاب نہیں۔مکان قوم کے روپیہ سے بنتے مگر ان پر نانا جان قبضہ کرتے جاتے ہیں وغیرہ۔الغرض اس دن کی سیر کا اکثر حصہ ایسی ہی رنج وہ گفتگو میں گزر گیا اور میں محسوس کرتا تھا کہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بے حد تکلیف اور ملال تھا اور سارا خاندان بھی ان حالات کے علم سے رنجیدہ تھا۔انا للہ وانا اليه راجعون۔یہ واقعہ حضور کے وصال کے بالکل قریب اور غالباً زیادہ سے زیادہ دوروز قبل یعنی ۰۸-۰۵-۲۴ کا ہے اور اسی روز یا اس سے ایک روز بعد یعنی آخری دن حضور نے سیر کے لئے تشریف لے جاتے ہوئے مجھ سے فرمایا۔گاڑی بان سے کہہ دو کہ اتنی دور لے جائے کہ جانے آنے میں ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ لگے۔کیونکہ آج ہمارے پاس اتنے ہی پیسے ہیں۔آہ آہ آہ شہنشاہوں کا شہنشاہ جس کا یہ حال۔جس کی تصدیق حضور کے وصال کے بعد کے واقعات نے کر دی جبکہ واقعی حضور پر نور نے بجائے مال و منال کے قرض کی بھاری رقم ترکہ میں چھوڑی مگر مہمان نوازی میں سرمو فرق نہ آنے دیا اور نہ ہی کسی کو جتایا۔جانے والے جانتے اور دیکھنے والے یقین رکھتے ہیں کہ حضور کو مہمان نوازی میں کتنا کمال اور شغف تھا۔حضور اس میں ذرہ بھر کوتاہی کو بھی پسند نہ فرماتے۔قرض تک لے کر مہمانوں کی خدمت کرتے ، خود اپنے ہاتھوں کھلاتے اور مہمانوں کی ضروریات کا پورے اہتمام سے ان کے حالات و عادات کے لحاظ سے انصرام کرتے۔چار پائی۔بستر حتی کہ حقہ تک بھی جس سے حضور کو طبعی نفرت تھی ،مہمان کی خاطر مہیا فرماتے۔حضور کی مہمان نوازی اور کرم فرمائی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں بلکہ میرا یقین ہے کہ ابھی تو ایسے خوش نصیب وجود موجود بھی ہیں جو حضور کی ایسی عنایات کا خود مورد بن چکے یا اپنی آنکھوں ایسے واقعات دیکھ چکے ہیں کہ حضور نے کھانا تناول فرماتے ہوئے بھی اپنا کھانا اٹھا کر