سیرت المہدی (جلد دوم) — Page iv
حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاں ہم تین بھائیوں میں تقسیم ہوئی تھیں۔فقط والسلام۔مرزا بشیر احمد ربوہ۔۱۵رجون ۱۹۵۸ء (روز نامه الفضل ۱۸ر جوان ۱۹۵۸ء ) ۱۸رجون محترم میر مسعود احمد صاحب نے یہ مسودات حضرت خلیق اصبع الرابع رحمہ اللہ کے ارشاد پر میں دے دئے تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے ۲۰۰۸ء میں منعقد ہونے والی صد سالہ خلافت احمد یہ جوبلی کے مبارک موقعہ پر اشاعت کتب کا جو پروگرام ہے۔اس میں سیرت المہدی کے پہلے تین مطبوعہ اور دو غیر مطبوعہ حصوں کی اشاعت بھی شامل ہے۔اس غرض کے لئے خاکسار نے سے ان دوحصوں کے مسودات حاصل کر کے صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ایم۔اے ناظر دیوان وصدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے ساتھ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی ہدایات کے مطابق دیکھا ہے۔جو روایات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت یا سلسلہ کی تاریخ سے تعلق نہیں رکھتی تھیں یا جو روایات سلسلہ کی مستند تاریخ کے مطابق نہیں تھیں انہیں اس کتاب میں شامل نہیں کیا گیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جن دستاویزات کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے وہ اس جلد میں شامل ہیں۔اسی طرح حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے خطبہ الہامیہ کی تقریب، جلسہ اعظم مذاہب ۱۸۸۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مضمون ”اسلامی اصول کی فلاسفی کے پڑھے جانے اور حاضرین پر اس کے اثر نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری سفر لا ہور ، حضور کی آخری بیماری، وفات اور تدفین کے بارہ میں جو مضامین حضرت میاں صاحب کے سپر دفرمائے تھے اور جنہیں حضرت