سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page iii of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page iii

سپر د کر دیئے ہیں اور انہیں سمجھا دیا ہے کہ اگر اور جب انہیں ان حصوں کو مدون کر کے شائع کرنے کا موقع ملے تو نہ صرف روایات کو عقل و نقل کے طریق پر اچھی طرح چیک کر کے درج کریں بلکہ جہاں جہاں تشریح کی ضرورت ہو وہاں تشریحی نوٹ بھی ساتھ دے دیو ہیں۔اسی طرح اگر سابقہ تین حصوں میں کوئی غلطی رہ گئی ہو یا کوئی روایت قابل تشریح نظر آئے تو سابقہ روایت کا حوالہ دے کر اس کی بھی تشریح کر دیں۔اور میں نے انہیں تاکید کر دی ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے مخالفوں کی گندی ذہنیت کے پیش نظر اصول یہ مد نظر رکھیں کہ کسی کمزور یا لا تعلق روایت کو تشریح کے ساتھ درج کرنے کی بجائے بہتر یہ ہے کہ اسے بالکل ہی ترک کر دیا جائے تا کہ کمزور حدیثوں کی طرح یہ روایتیں فائدہ کی بجائے نقصان کا موجب نہ بن جائیں۔میں نے یہ تلخ سبق اپنے زمانہ کے مخالفین کی ناپاک اور پست ذہنیت سے سیکھا ہے۔ہاں یاد آیا کہ حصہ چہارم اور حصہ پنجم کے مسودے میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اس وصیت کا اصل کاغذ بھی شامل ہے جو حضور نے اپنی مرض الموت میں آئندہ خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں تحریر فرمائی تھی اور پھر اسے مولوی محمد علی صاحب ایم اے مرحوم سے پڑھوا کر حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کے سپر د کر دیا تھا اور اس پر حضرت خلیفہ اصسیح الثانی ایدہ اللہ اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم کے دستخط بھی ثبت ہیں اسی طرح بعض روایات حضرت اُم المومنین نوراللہ مرقدھا اور بعض حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی بھی اس مسودہ میں درج ہیں۔اسی طرح اس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی بعض د تخطی تحریریں بھی شامل ہیں اور اس تحریر کے کاغذات بھی اس مسل میں ہیں جو