سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 369 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 369

سیرت المہدی 369 تھے، لکھنے کے بعد چھوڑ کر حضور کے چہرہ مبارک کی طرف ٹکٹکی لگائے بیٹھا اس تبتل وانقطاع کے نظارہ اور سریلی ودلوں کے اندر گھس کر کایا پلٹ دینے والی پر کیف آواز کا لطف اٹھانے لگ گیا۔تھوڑی دیر بعد حضرت شیخ صاحب بھی لکھنا چھوڑ کر اس خدائی نشان اور کرشمہ قدرت کا لطف اٹھانے میں مصروف ہو گئے۔لکھتے رہے تو اب صرف حضرت مولوی صاحبان دونوں جن کو خاص حکم تھا کہ وہ لکھیں۔لکھنے میں پنسلیں استعمال کی جارہی تھیں جو جلد جلد گھس جاتی تھیں مجھے یاد ہے کہ پنسل تراشنے اور بنا بنا کر دینے کا کام بعض دوست بڑے شوق و محبت سے کر رہے تھے مگر نام ان میں سے مجھے کسی بھی دوست کا یاد نہ رہا تھا۔ایک روز اس مقدس خطبہ الہامیہ کے ذکر کے دوران میں مکرم محترم حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب در دایم اے نے بتایا کہ وہ بھی اس عید اور خطبہ الہامیہ کے نزول کے وقت موجود تھے اور کہ لکھنے والوں کو پنسلیں بنا بنا کر دیتے رہے تھے۔(۷) بعض اوقات حضرت مولوی صاحب کو لکھنے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے یا کسی لفظ کے سمجھ نہ آنے کے باعث یا الفاظ کے حروف مثلا الف اور عین۔صاد و سین یا ثا اور طوت وغیرہ وغیرہ کے متعلق دریافت کی ضرورت ہوتی تو دریافت کرنے پر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عجب کیفیت ہوتی تھی اور حضور یوں بتاتے تھے جیسے کوئی نیند سے بیدار ہوکر یا کسی دوسرے عالم سے واپس آکر بتائے اور وہ دریافت کردہ لفظ یا حرف بتانے کے بعد پھر وہی حالت طاری ہو جاتی تھی اور انقطاع کا یہ عالم تھا کہ ہم لوگ یہ محسوس کرتے کہ حضور کا جسد اطہر صرف یہاں ہے، روح حضور پر نور کی عالم بالا میں پہنچ کر وہاں سے پڑھ کر یاسن کر بول رہی تھی۔زبان مبارک چلتی تو حضور ہی کی معلوم دیتی تھی۔مگر کیفیت کچھ ایسی تھی کہ بے اختیار ہو کر کسی کے چلائے چلتی ہو۔یہ سماں اور حالت بیان کرنا مشکل ہے۔انقطاع تبتل ، ر بودگی یا حالت مجذوبیت و بے خودی و وارفتگی اور محویت تامہ وغیرہ الفاظ میں سے شاید کوئی لفظ حضور کی اس حالت کے اظہار کے لئے موزوں ہو سکے ورنہ اصل کیفیت ایک ایسا روحانی تغیر تھا جو کم از کم میری قوت بیان سے تو باہر ہے کیونکہ سارا ہی جسم مبارک حضور کا غیر معمولی حالت میں یوں معلوم دیتا تھا جیسے ذرہ ذرہ پر اس کے کوئی نہاں درنہاں اور غیر مرئی طاقت متصرف و قا بو یافتہ ہو۔