سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 367 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 367

سیرت المہدی 367 تک اور ظہر کے بعد سے عصر اور شام بلکہ عشاء کی نماز تک سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دروازے بند کئے دعاؤں میں مشغول اپنی جماعت کے لئے اللہ کے حضور التجائیں کرتے رہے۔اسلام کی فتح اور خدا کے نام کے جلال و جمال کے ظہور۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت اور احیاء وغلبہ اسلام کے لئے نہ جانیں کس کس رنگ میں تنہا سوز و گداز سے دعائیں کرتے رہے اور یہ امر دعائیں کرنے والے جانتے ہیں یا جس ذات سے التجائیں کی گئیں وہ جانتا ہے۔لوگوں نے جو کچھ سناوہ آگے سنا دیا یا قیاس کر لیا ورنہ حقیقت یہی تھی کہ خدا کا برگزیدہ جانتا تھایا پھر خدا جس سے وہ مقدس کچھ مانگ رہا تھا۔(۴) دوسرا دن عید کا تھا اللہ تعالیٰ نے کل کی دعاؤں کو سنا اور نوازا۔اس روز کے تنہائی کے راز و نیاز کو قبول فرمایا اور حضور کو بشارتیں دیں جن کے نتیجہ میں حضور کی طرف سے حضرت مولا نا عبد الکریم صاحب، حضرت مولانا نورالدین صاحب اور بعض اور احباب خاص کو یہ ارشاد پہنچا کہ آج ہم کچھ بولیں گے اور عربی زبان میں تقریر کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عربی میں نطق کی خاص قوت عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔لہذا آپ لکھنے کا سامان لے کر مسجد چلیں۔اس خبر سے قادیان بھر میں مسرت و انبساط کی ایک لہر دوڑ گئی اور ہماری عید کو چار چاند لگ گئے۔عید کے موقع پر اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم حضرت کے حضور نیا لباس پیش کیا کرتے تھے اور مدت سے اُن کا یہ طریق چلا آرہا تھا۔اس روز اس لباس کے پہنچنے میں کچھ تاخیر ہوگئی یا سید نا حضرت اقدس ہی خدا کے موعود فضل کے حصول کی سعی و کوشش میں ذرا جلد تشریف لے آئے وہ لباس پہنچانہ تھا اور حضور تیار ہو کر مسجد کی سیڑھیوں کے رستے اتر کر مسجد اقصیٰ کو روانہ ہو گئے تھے۔مسجد مبارک کی کوچہ بندی سے ایک یا دو قدم ہی حضور آگے بڑھے ہوں گے کہ وہ لباس حضرت کے حضور پیش ہو گیا اور حضور پر نور خلاف عادت شیخ صاحب کی دلجوئی کے لئے واپس الدار کو لوٹے۔اندرون بیت تشریف لے جا کر یہ لباس زیب تن فرمایا اور پھر جلد ہی واپس مسجد اقصیٰ میں پہنچ کر حسب معمول محد و منا حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کی اقتداء میں نماز عید ایک خاصے مجمع سمیت ادا فرمائی مگر خطبہ عید حضرت اقدس نے دیا۔(۵) سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خطبہ اردو میں پڑھا جس کے آخری حصہ