سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 366 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 366

سیرت المہدی 366 ہم لوگ اکثر لکھتے اور عرض کرتے رہا کرتے تھے اور بعض اصحاب ضرورت وحاجت اکثر روازنہ اور متواتر ہفتوں بھی حضرت کے حضور دعاؤں کی درخواستیں بھیجا کرتے تھے۔حضور کی مجلس کے دوران بھی کبھی کبھی احباب التجاء دعا کیا کرتے جس کے جواب میں عموماً حضور فرمایا کرتے :۔انشاء اللہ دعا کروں گا۔یاد دلاتے رہیں۔اور کئی بار ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ ادھر کسی نے دعا کے لئے عرض کیا ادھر حضور نے دست دعا اللہ تعالیٰ کے حضور بڑھا کر اس کے لئے دعا کر دی جس میں حاضرین مجلس بھی شریک ہو جایا کرتے۔تحریری درخواست ہائے دعا کے جواب میں بعض دوستوں کو حضور خود دست مبارک سے جواب تحریراً بھی دیا کرتے تھے مگر اس یوم الحج کے روز ر تو ضرور کوئی خاص ہی فضل الہی تھا جس میں حضور نے از راہ شفقت تمام خدام، احباب اور مہمانوں کو شامل کرنے کے لئے خاص طور سے اعلان کرایا تھا۔(۳) اس اعلان کا ہونا تھا کہ جہاں یکجائی فہرست میں ہر کسی نے دوسرے سے پہلے اپنا نام لکھانے کی کوشش کی وہاں فرداً فرداً بھی رقعات اور عرائض بھیجنے کی سعی کی۔ایک فہرست حضرت مولا نا مولوی نورالدین صاحب کی زیر قیادت تیار ہوئی تھی اور میرا خیال ہے کہ اسی طرح بعض دوستوں نے اور بھی دو ایک فہرستیں تیار کر کے اندر بھجوائی تھیں۔کتنے رقعات اور عرائض فردا فردا حضرت کے حضور پہنچائے گئے ان کا حساب اللہ تعالیٰ کو ہے کیونکہ ہر شخص کی خواہش تھی کہ میرا عریضہ پہلے روز حضرت کے اپنے ہاتھ میں پہنچے۔چنانچہ اس کوشش میں اس روز حضور کی ڈیوڑھی کیا اور مسجد مبارک کی طرف سیٹرھیاں کیا خدام سے آٹی رہیں اور بچوں و خادمات نے بھی دوستوں کے عریضے اور خطوط پہنچانے میں جو احسان کیا وہ اپنی جگہ قابل رشک کام تھا۔اُس زمانہ میں عیدین کے موقعہ پر دارالامان میں بیرونجات سے آنے والے احباب کی وجہ سے خاصی چہل پہل ہو جایا کرتی تھی اور جلسہ کا سا رنگ معلوم دیا کرتا تھا۔رقعات اور عرائض کا سلسلہ کچھ زیادہ لمبا ہو گیا اور بچوں و خادمات کے بار بار کے جانے کی وجہ سے حضور کی توجہ الی اللہ میں خلل اور روک محسوس ہوئی تو کہدیا گیا کہ اب کوئی رقعہ حضرت کے حضور نہ بھیجا جاوے۔الغرض دن اونچا ہونے سے لے کر ظہر