سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 365
سیرت المہدی 365 بسم الله الرحمن الرحيم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر عید قربان ۱۹۰۰ ء اور خطبہ الہامیہ الحمد لله الحمد لله۔ثم الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا ان هدانا الله۔لقد جاءت رسل ربنا بالحق (1) اللہ تعالیٰ کا خاص بلکہ خاص الخاص فضل ہے کہ مجھ نا کارہ و نالائق کو لطف کرم سے نوازا اور سراسر احسان سے اُٹھا کر اپنے برگزیدہ و حبیب جری اللہ فی حلل الانبیاء کے قدموں میں لا ڈالا۔۱۹۰۰ عیسوی کے مندرجہ نشان کے ظہور کے وقت بھی مجھ غلام کو حضوری کا شرف میسر تھا۔اس طرح اس روز کے علمی معجزہ کو آنکھوں دیکھنے اور کانوں سنے کی سعادت نصیب ہوئی وَذَالِکَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلكِنْ أَكْثَرُ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ - (۲) عید سے پہلے دن یعنی حج کے روز سید نا حضرت اقدس کی طرف سے چاشت کے وقت یہ اعلان کرایا گیا کہ قادیان میں موجود تمام دوستوں کے نام لکھ کر حضرت کے حضور پیش کئے جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محض (فضل) اور رحم سے یہ دن حضور انور کے لئے دعاؤں کی قبولیت کے واسطے خاص فرما کر حضور کو اذنِ دعا یا تھا اور حضور خدا کے اس انعام میں اپنے خدام کو بھی شریک فرمانا چاہتے تھے۔ورنہ پانچ چھ سالہ فیض صحبت ( یعنی ۱۸۹۵ء تا ۱۹۰۰ء) کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کی وجہ سے میں کہ سکتا ہوں کہ اس دن کے سواحضور کی طرف سے اس قسم کا اعلان پہلے کبھی ہوتا میں نے دیکھا، نہ سنا تھا۔یوں تو دعاؤں کے لئے