سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 360 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 360

سیرت المہدی 360 نہ سمجھا اور اس طرح مولوی صاحب کی پردہ داری کی بجائے اور بھی زیادہ پردہ دری ہوئی جس سے ”مولا نا صاحب جل بھن کر راکھ ہو گئے اور اس گہرے زخم سے تلملانے لگے جس کا اند مال ان سے ممکن نہ تھا کیونکہ وہ انسانی ہاتھوں سے نہ تھا کہ بشری تدابیر اس کو اچھا کر سکتیں۔ورنہ اگر حقیقت یہی تھی جس کا ان کو گلہ تھا تو کیوں نہ اپنا اصل مضمون شائع کر کے منتظمین کے اس دھوکہ کو الم نشرح کر دکھایا۔بریں عقل و دانش باید گریست ۲۰۔سوامی شوگن چندر صاحب جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان نشان صداقت“ کے اظہار کے سامان پیدا کئے ، جلسہ کی تمام تر کارروائی کے دوران میں اور پھر رپورٹ کی اشاعت تک تو ملتے ملاتے اور آتے جاتے رہے پھر نہ معلوم وہ کیا ہوئے اور کہاں چلے گئے۔گویا خدائی قدرت کا ہاتھ انہیں اسی خدمت کی غرض سے قادیان لایا تھا اور پھر پہلے کی طرح غائب کر دیا۔نوٹ :۔حضرت منشی جلال الدین صاحب بلانوی اور حضرت پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی رضوان اللہ علیہم دونوں بزرگوں کے ہاتھ کا نقل کردہ حضرت اقدس کا وہ مضمون جس پر سے حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے اس جلسہ میں پڑھ کر سنایا تھا آج تک میرے پاس محفوظ ہے مگر چونکہ اس مقدس اور قیمتی امانت کی حفاظت کا حق ادا کرنے سے قاصر ہوں لہذا اسے قومی امانت سمجھ کر اس کو سید نا قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ عالی مقام مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ ربہ کے سپرد کرتا ہوں جو ایسے کاموں کے احق اور اہل ہیں تا کہ قائم ہونے والے قومی میوزیم میں رکھ کر اس کو آنے والی نسلوں کے ایمان وایقان کی مضبوطی و زیادتی اور عرفان میں ترقی کا ذریعہ بنا سکیں۔فقط عبدالرحمن قادیانی ۲۰ جولائی ۱۹۴۶ء